فتح مبین کا راز
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۲
ایک خط برادر محترم عبد السلام اکبانی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۱۳ مئی ۲۰۰۱ کو ٹیلی فون پر گفتگو کے بعد یہ خط لکھ رہا ہوں۔ میرے ایک بھائی اے ایم خان ہیں۔ انہوں نے ۱۹۵۵ میں بنارس ہندو یونیورسٹی سے انجینئرنگ ڈگری حاصل کی، اب وہ فیض آباد میں رہتے ہیں۔ چند دن پہلے وہ دہلی آئے۔ ایک گفتگو کے دوران انہوں نے اپنا ایک ذاتی تجربہ بیان کیا۔ ہندو یونیورسٹی میں ان کو لِمڈی ہاسٹل (LIMDI Hostel) میں رکھا گیا۔ اس ہاسٹل کے ہر کمرے میں دو طالب علم کے رہنے کا انتظام تھا۔ ہمارے بھائی کا داخلہ ہوا تو وہاں کے وارڈن مسٹروِی۔ پی پانڈے (V.P. Panday) نے کہا کہ تم مسلمان ہو۔ تم کو نماز اور قرآن پڑھنا ہوگا اس لئے میں تم کو ایک غیر مشترک کمرہ دیتا ہوں، تا کہ تم کو کوئی پریشانی نہ ہو۔ یونیورسٹی کے قاعدہ کے مطابق، صرف مانیٹر کو تنہا اور غیر مشترک کمرہ دیا جاتا تھا۔ چنانچہ مسٹر پانڈے نے ہمارے بھائی کو مانیٹر بنا دیا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ میں تو پڑھنے لکھنے والا آدمی ہوں، مانیٹری میں کیسے کروں گا۔ مسٹر پانڈے نے کہا تم کچھ مت کرنا، صرف رجسٹر پر دستخط کر دینا اور بس۔ بقیہ کام دوسرے لوگ کر دیں گے۔ چنانچہ ہمارے بھائی کی تعلیم کی پوری مدت میں اس کمرہ میں غیر مشترک طور پر رہے۔ میرے بھائی نے بتایا کہ اس واقعہ کا ذکر انہوں نے یوپی کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے کیا۔ انہوں نے یہ بات سن کر میرے بھائی سے کہا کہ مسٹر خان، پانڈے نے نہایت ہوشیاری سے آپ کو اچھوت بنا دیا۔ یہ کوئی اتفاقی بات نہیں۔ یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا عام مزاج ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اپنی زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر منفی مزاج (negative mentality) کا شکار ہو گئے ہیں۔ ان کو ہر واقعہ میں صرف منفی پہلو دکھائی دیتا ہے۔ حتیٰ کہ مثبت واقعات میں بھی وہ کوئی نہ کوئی منفی پہلو تلاش کر لیتے ہیں۔ اس کی ایک مثال اوپر کا واقعہ ہے۔ یہ زوال یافتہ قوم کا حال ہے۔ مگر جب کوئی قوم عروج کی حالت میں ہو تو اس کا معاملہ اس سے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2002 All issues