Al-Risala · May 2002 · page

There is no second chance.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۲

اس مزید رقم کا راز یہ تھا کہ انڈیا کی دونوں ایر لائنز کے پاس جو ہوائی جہاز ہیں وہ زیادہ تر (lease) پر ہیں۔ 11 ستمبر ۲۰۰۱ کو امریکہ میں چار ہوائی جہازوں کو ہائی جیک کر کے جو ٹکرایا گیا، یہ اضافہ اس کے بہت سے منفی نتائج میں سے ایک نتیجہ ہے۔ اس حادثہ کے بعد مالک کمپنیوں نے انشورنس کی رقم بہت زیادہ بڑھا دی تا کہ متوقع نقصان کی تلافی کی جاسکے۔ اب انڈین ایر لائنز نیز ایرا انڈیا کے لئے اس کے سوا کوئی صورت نہ تھی کہ وہ انشورنس کے نام پر کرایہ میں اضافہ کریں۔ یہ ان بے شمار مسائل میں سے ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے جو ۱۱ ستمبر کے نا عاقبت اندیشانہ فعل کے بعد پیش آیا۔ انسانی تاریخ میں غالباً یہ پہلا واقعہ تھا کہ کوئی ایک حادثہ ایسا ہو جس کے اثرات کسی نہ کسی طرح دنیا کے تمام انسانوں تک پہنچ جائیں۔

سنن ابی داؤد (کتاب الفتن) اور مسند احمد میں یہ روایت آئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آخری زمانہ میں جو فتنے اٹھیں گے ان میں سے ایک فتنہ دُھَیما ہوگا جو اس وقت کے کسی بھی شخص کو نہیں چھوڑے گا مگر یہ کہ اس کو اس کا ایک تھپڑ لگ جائے (ثم فتنة الدهيما لا تدع احدا من هذه الامة الا لطمته لطمةً ) ۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ فتنہ دھیما سے مراد یہی موجودہ فتنہ ہے یا مستقبل میں آنے والا کوئی دوسرا فتنہ۔

انڈین ایر لائنز کی فلائٹ میگزین سواگت (نومبر ۲۰۰۱) کا شمارہ راستہ میں دیکھا۔ اس کے ایک مضمون کا عنوان تھا ــــــــ "دوسرا چانس نہیں"۔

There is no second chance.

مضمون نگار نے یہ بات سڑکوں کے سفر کے بارے میں لکھی تھی، مگر یہی بات وسیع تر معنوں میں زندگی کے سفر کے لئے بھی درست ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کو صرف ایک بار آنے کا موقع ملا ہے۔ آدمی خواہ اس موقع کو درست طور پر استعمال کر کے جنت میں داخلہ کا استحقاق حاصل کر لے یا وہ اپنے آپ کو ابدی طور پر نا کام بنالے۔

بھوپال ایر پورٹ پر ساڑھے تین بجے پہنچا، یہاں الرسالہ کے قارئین کی بڑی تعداد موجود

‹ Previous page Next page › Contents of May 2002 All issues

Printed page