There is no second chance.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۲
تھی ۔ مسٹر الطاف صدیقی اور دوسرے بہت سے ساتھیوں کے علاوہ شہر کے ایک ممتاز صنعت کار مسٹر راجیند رسنگھ ، وغیرہ بھی ایئر پورٹ پر موجود تھے۔ ایئر پورٹ سے روانہ ہوئے تو ہمارا قافلہ دور تک ایک خوبصورت سڑک سے گزرتا رہا۔ یہ نو تعمیر سڑک گویا مستقبل کے ہندوستان کی علامت تھی ۔ آخر کار ہم لوگ ڈاکٹر حمید اللہ ندوی کے مکان پر پہنچے۔ یہاں بہت سے لوگ جمع ہو گئے، جن سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔
مسٹر راجیند رسنگھ اس دور کی ایک مثال ہیں جب کہ ہندوستان میں ہندو مسلم تفریق موجود نہ تھی۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ عزت و احترام سے رہتے تھے۔ مسٹر راجندر سنگھ نے بتایا کہ جب وہ تقریباً چھ سال کے تھے تو ان کے گھر پران کے کچھ رشتہ دار آئے۔ اس وقت ایک مسلمان (ڈاکٹر مقبول ) بھی وہاں موجود تھے۔ مسٹر راجیند رسنگھ نے ہندو روایت کے مطابق ، سب کے پاؤں چھوئے ، مگر انہوں نے مسلمان کا پاؤں نہیں چھوا۔ اس بنا پر ان کے والد صاحب نے انہیں ہلکے ہاتھ سے مارا اور کہا کہ یہ سب تمہارے بزرگ ہیں، اور تم کو سب کے پاؤں چھونا چاہئے ۔ اس کے بعد انہوں نے دوسروں کی طرح مسلمان کا بھی پاؤں چھوا۔
گفتگو کے دوران مسٹر الطاف احمد صدیقی نے کام کی اہمیت کو بتاتے ہوئے کہا کہ کام عبادت ہے (work is worship)۔ اس پر مسٹر راجیند رسنگھ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ہندوؤں کے لئے تو یہ مقولہ درست ہے، مگر کیا مسلمانوں کے لئے بھی ایسا ہی ہے ۔ میں نے کہا کہ ہاں ، صرف اس اضافہ کے ساتھ کہ انسان جو کام کرے وہ رضائے الہی کی نیت اور اس کے حکم کی پیروی میں کرے۔ شام کی اس مجلس میں ملاقات کے لئے جو لوگ آئے ان میں سے ایک انور حسین آزاد صاحب تھے۔ وہ ۱۹۹۱ سے الرسالہ کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ الرسالہ سے آپ نے اپنی ذات کے لئے کیا سیکھا؟ انہوں نے کہا کہ یہ سیکھا کہ مجھے زمین پر چلنا آگیا ۔ اب میں الرسالہ کی تعلیم کے مطابق صبر کے فارمولا کو استعمال کرتا ہوں، اور اللہ کے فضل سے مجھے کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ میں نے کہا کہ صبر کا فارمولا الرسالہ کا فارمولا نہیں ہے، وہ فطرت کا فارمولا ہے۔ اور فطرت کا فارمولا ایک