Al-Risala · May 2002 · page

There is no second chance.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۲

کے بعد وہ نا کارہ ہو جاتی ہیں۔ ایسی مرغیوں کو ہم بازار میں بیچ دیتے ہیں۔ حالانکہ ہم کو یہ پتہ ہوتا ہے کہ ان مرغیوں کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ میں نے کہا کہ میں خود طبعی طور پر ایک ویجیٹیرین ہوں۔ مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم فطرت کی جس دنیا میں رہتے ہیں وہ ویجیٹیریان نہیں۔ میں ویجیٹیریان ہوتے ہوئے پانی اور ہوا اور سبزی ، غرض ہر چیز کے ساتھ بے شمار زندگیوں کو اپنے اندر داخل کرتا رہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ اس دنیا میں آپ اپنی پسند کے مطابق نہیں رہ سکتے۔ یہاں آپ کے لئے پسند اور ناپسند کا چوائس نہیں ہے بلکہ قابل عمل اور ناقابل عمل کے درمیان چوائس ہے۔ اس لئے میں کہوں گا کہ آپ ناکارہ مرغیوں کو مارکیٹ میں بیچ دیں۔ کیوں کہ اس کے سوا کوئی اور قابل عمل صورت آپ کے لئے ممکن نہیں۔ میں نے کہا کہ مہاتما گاندھی پورے معنوں میں اہنساوادی تھے۔ ان کے آشرم میں ایک گائے زخمی ہو گئی۔ علاج کے باوجود وہ اچھی نہ ہوسکی۔ یہاں تک کہ زندگی اس کے لئے ایک مستقل مصیبت بن گئی ۔ مہاتما گاندھی سے لوگوں نے اس کے بارے میں رائے پوچھی تو انہوں نے کہا کہ اس کو گولی مار کر ہلاک کر دو کیوں کہ اس کو زندہ رکھنا اس کو زیادہ بڑی مصیبت کے لئے چھوڑنا ہے۔ جناب الطاف احمد صدیقی صاحب (۷۰ سال) جو ہم سب لوگوں کے لئے بڑے بھائی کی حیثیت رکھتے ہیں، وہ ۱۹۶۰ء سے پان کھانے کے عادی تھے۔ وہ رات دن میں تقریباً چوبیس پان کھاتے تھے۔ پان کا ڈبہ ہمیشہ ان کے ہاتھ میں رہتا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ اگر اجازت دیں تو میں آپ سے ایک گذارش کروں اور وہ یہ کہ آپ پان کھانا چھوڑ دیں۔ انہوں نے کہا کہ دھیرے دھیرے چھوڑ دوں گا۔ میں نے کہا کہ عادت یا تو فوراً چھوڑی جاتی ہے یا وہ کبھی نہیں چھوٹتی۔ اس لئے آپ اس انگریزی مقولہ پر عمل کیجئے ۔

There is no better time to start than this very minute. میں نے کہا کہ پان کھانے میں کوئی ثواب نہیں ہے۔ مگر پان چھوڑنا آپ کے لئے بہت بڑا ثواب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کیسے؟

میں نے کہا کہ قرآن میں مال کے اسراف سے منع کیا گیا ہے اور اسراف یہ ہے کہ غیر ضروری

‹ Previous page Next page › Contents of May 2002 All issues

Printed page