There is no second chance.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۲
انہوں نے قرآن کی آیتیں پیش کیں۔ اس کے برعکس دوسری قوموں کو بتانے کے لئے انہوں نے ان کے عمل کا نمونہ پیش کیا۔ یہ ایک غیر منصفانہ تقابل تھا۔ اس میں عمل کا تقابل آئیڈیل سے کیا گیا تھا۔ صحیح تقابل یہ ہے کہ یا تو دونوں کے عمل کو لیا جائے یا دونوں کے نظریات کو۔
انہوں نے پر جوش طور پر کہا کہ مسلمان ایک پر امن امت ہیں۔ البتہ ان کے خلاف دہشت گردی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تم جیو اور ہمیں بھی جینے دو۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم خود تو جیو اور ہمیں ہلاک کرو۔ میرے نزدیک یہ صرف ایک جوشیلا بیان ہے۔ موجودہ صورت حال کے مطابق، یہ کہنا درست ہوگا کہ تم کو ہمیں مارنے کی ضرورت نہیں بلکہ ہم تو خود کشی کر کے اپنے آپ کو خود ہی ہلاک کر رہے ہیں۔
۴ نومبر کی شام کو مسٹر راجیندر سنگھ کی رہائش گاہ پر ایک خصوصی اجتماع ہوا۔ اس اجتماع میں شہر کے اعلیٰ طبقہ کے لوگ شریک تھے۔ اس میں زیادہ تر ہندو حضرات تھے۔ لوگوں کی فرمائش پر پہلے میں نے ایک مختصر تقریر کی اور اس کے بعد سوال و جواب کی صورت میں یہ مجلس دیر تک چلتی رہی۔ میں نے اپنی تمہیدی تقریر میں جو باتیں کہیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ اپنے مطالعہ و تجربہ سے میں نے زندگی کا ایک سادہ فارمولا بنایا ہے۔ وہ یہ کہ ــــ اپنے آپ کو جانو، اور پھر تم تمام دنیا کو جان لو گے۔ Discover yourself and you will be able to discover the whole world. یہاں لوگوں نے جو سوالات کئے ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ امریکہ اور افغانستان کے جھگڑے میں ہندستانی مسلمانوں کی پالیسی کیا ہونا چاہئے ۔ میں نے کہا کہ اس طرح کے معاملہ میں ہندستانی مسلمانوں کی پالیسی وہی ہوگی جو ہماری نیشنل پالیسی ہے۔ اگر کسی مسلمان کی رائے نیشنل پالیسی سے الگ ہو تو اس کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ اپنے اختلاف کو لے کر عوامی سیاست چلائے۔ اس کو صرف یہ حق ہے کہ وہ ان لوگوں سے ملے جو نیشنل پالیسی بناتے ہیں، اور ان کے سامنے اپنی رائے کا اظہار کرے ۔ اختلافی رائے کو لے کر ہنگامہ آرائی کرنا نہ شرعی اعتبار سے درست ہے اور نہ عقلی اعتبار سے۔ ایک ہندو تاجر نے یہ سوال کیا کہ میں مرغی فارم چلاتا ہوں، مرغیوں کا معاملہ یہ ہے کہ ایک عمر