Al-Risala · May 2002 · page

There is no second chance.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۲

تھی۔ اس بنا پر وہاں کی آبادی کے لئے عمومی طور پر قلتِ خوراک کا مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ دوسروں کی طرح رسول اللہ اور مہاجرین بھی اس مسئلہ سے دوچار ہوئے۔

مولانا اختر قاسمی نے فرمایا کہ الرسالہ کا یہ پیغام ہے کہ مسلمانوں کے اندر داعیانہ ذہن پیدا ہو۔ اب ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہندوستان کی مسلم جماعتوں کے ذمہ دار بھی الرسالہ کی زبان ہی میں بات کرنے لگے ہیں۔ جب صورت حال یہ ہے تو کیوں نہ ہم دعوت کے عنوان پر کوئی مشترک لائحہ عمل تیار کریں اور اس کی پہل کیوں نہ اسلامی مرکز کی جانب سے ہو۔

میں نے کہا کہ یہ تجویز بظاہر اچھی ہے۔ مگر موجودہ حالات میں وہ قابل عمل نہیں۔ ہماری قوم میں وہ عملی صلاحیت موجود نہیں جو متحدہ عمل کے لئے ضروری ہوتی ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ملک کے تمام دینی مدارس کا مقصد ایک ہے مگر بار بار کی کوشش کے باوجود ان کے درمیان متحدہ لائحہ عمل تیار نہ کیا جاسکا۔ یہی انجام آپ کی تجویز کردہ کوشش کا بھی ہوگا۔

میں نے اپنا ایک ذاتی تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد میں ملک کے مختلف دینی مدارس کے ذمہ داروں کا ایک مشاورتی اجتماع ہوا۔ میں بھی اس میں شریک تھا۔ وہاں یہ تجویز پیش کی گئی کہ تمام مدارس کے درمیان اتحاد کی فضا قائم کی جائے۔ مثلاً نصابِ تعلیم میں یکسانیت تاکہ اسکول کالجوں کی طرح مدارس کے طلبہ بھی ایک مدرسہ کو چھوڑ کر دوسرے مدرسہ میں بآسانی داخلہ لے سکیں۔ اساتذہ کی تنخواہوں کے درمیان یکسانیت ہو۔ مالیات کی فراہمی کا مشترک بورڈ ہو۔ مختلف مدارس کے درمیان وفاقی تنظیم ہو، وغیرہ۔ مگر دو دن کی بحث کے باوجود ان تجویزوں پر اتفاق نہ ہوسکا۔ آخر میں مجھے بولنے کا موقع دیا گیا۔ جب میں کھڑا ہوا تو میرا حال یہ تھا کہ میرا دل تڑپ رہا تھا اور میری آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے۔ میں نے کہا کہ لوگوں کے درمیان اتفاق نہ ہونا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ لوگوں کے سینوں میں اللہ کا خوف نہیں۔ پھر میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہو کہ یہاں لوگوں کے درمیان اچانک ایک کالا سانپ نکل آئے تو ہر شخص متفق ہو کر یہ کہے گا کہ سانپ سے بچو، سانپ سے بچو۔ میں نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا کہ شدت

‹ Previous page Next page › Contents of May 2002 All issues

Printed page