Al-Risala · May 2002 · page

There is no second chance.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۲

خوفِ رایوں کے تعدد کو ختم کر دیتا ہے۔ اگر لوگوں کے اندر اللہ کا خوف ہوتا تو یقیناً رایوں کا اختلاف اپنے آپ ختم ہو جاتا جس طرح کوئی بڑا دنیوی خطرہ دیکھ کر رایوں کا اختلاف ختم ہو جاتا ہے۔ ایسی حالت میں اتحاد کی کوشش کا آغاز اتحاد کانفرنس کے ذریعے نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے ضرورت ہے کہ لوگوں کے اندر سب سے پہلے اللہ کا خوف اور آخرت کی پکڑ کا احساس پیدا کیا جائے۔ اس کے بعد ہی کوئی حقیقی اتحاد وجود میں آ سکتا ہے۔

مولانا اختر قاسمی نے پوچھا کہ فتویٰ کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں طرح طرح کے فتوے جاری کئے جاتے ہیں جن میں لوگوں کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ایسا کریں، ایسا نہ کریں۔ ایسے فتوے کس حد تک درست ہیں۔

میں نے کہا کہ فتویٰ کا مطلب رائے(opinion)ہے۔ فتویٰ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص ایک عالم کے پاس آیا۔ اس نے عالم کے سامنے اپنا ایک مسئلہ بیان کیا۔ اور اس مسئلہ کے بارے میں شریعت کا حکم جاننا چاہا۔ اس طرح کے سوال پر اپنے علم کے مطابق، شرعی حکم بتانا یہ فتویٰ ہے۔ مگر ہمارے یہاں فتویٰ کی ایک اور قسم رائج ہو گئی ہے جو یقینی طور پر غیر شرعی ہے۔ وہ یہ کہ کوئی مفتی یا مفتیوں کا کوئی بورڈ بطور خود یہ فتویٰ جاری کرتا ہے کہ جس کی داڑھی ایک مشت سے چھوٹی ہو اس کے پیچھے لوگوں کے لئے نماز پڑھنا جائز نہیں۔ فلاں ملک اسلام دشمن ہے اس کی مصنوعات کو خریدنا جائز نہیں، وغیرہ۔ یہ دوسری قسم کا فتویٰ حقیقتاً فتویٰ نہیں، وہ یکطرفہ طور پر ہدایت جاری کرنا ہے اور اس قسم کی ہدایت جاری کرنے کا اختیار ایک قائم شدہ حکومت کو ہے، نہ کہ کسی مفتی کو۔ صحابہ اور تابعین کی مثال بتاتی ہے کہ وہ حاکمانہ ہدایت کبھی جاری نہیں کرتے تھے۔ اس کے بجائے وہ دعوت و تبلیغ کا کام کرتے تھے۔ مثلاً اگر لوگ داڑھی کی سنت میں غفلت برت رہے ہوں تو صحابہ و تابعین کی سنت کے مطابق، ایسے لوگوں کے درمیان دعوت و تبلیغ کا کام کرنا چاہئے، نہ کہ بائیکاٹ کا فتویٰ صادر کرنا۔ مزید یہ کہ باعتبار نتیجہ اس قسم کا فتویٰ سراسر لا حاصل ہے۔ انسان کی اصلاح قلب و ذہن کے بدلنے سے ہوتی ہے، نہ کہ فتاویٰ جاری کرنے سے۔ خود ہندوستان کی مثال بتاتی ہے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2002 All issues

Printed page