I am a bearer cheque for you.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۲، صفحہ ۴۶
یا وہ اس معاملہ میں بالکل خاموش رہیں۔ مگر انہوں نے ناقابل فہم طور پر یہ تیسرا طریقہ اختیار کیا کہ انہوں نے الزام کی زبان کو میری تردید کے لئے کافی سمجھا۔ یہ تیسری پوزیشن یقینی طور پر نہ عقل کے مطابق ہے اور نہ شریعت کے مطابق۔
۴۔ محترمہ مریم صاحبہ نے اپنے تبصرے میں لکھا ہے کہ میرا مضمون ’’اسلامک فنڈامنٹلزم‘‘ بتاتا ہے کہ میں اس کی حقیقت سے بالکل بے خبر ہوں۔ وہ لکھتی ہیں کہ فنڈامنٹلزم کی اصطلاح مغرب میں وضع ہوئی، نہ کہ مسلم دنیا میں۔ اور یہ کہ اسلامک فنڈامنٹلزم یا مسلم فنڈامنٹلزم کا لفظ غیر مسلموں کا دیا ہوا لفظ ہے، وہ خود مسلمانوں کا اپنا لفظ نہیں۔ مگر یہ عین وہی بات ہے جو خود میں نے اپنے مضمون میں لکھی ہے۔ عجیب بات ہے کہ موصوفہ خود میری لکھی ہوئی بات سے مجھ کو بے خبر بتا رہی ہیں۔ اس معاملہ کی وضاحت کے لئے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی انگریزی کتاب ’’اسلام ری ڈسکورڈ‘‘ کا بارہواں باب: اسلامک فنڈامنٹلزم‘ صفحہ ۱۳۱۔
۵۔ موصوفہ نے لکھا ہے کہ اسلام میں کوئی فنڈامنٹلزم نہیں۔ اس سلسلہ میں میرا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی وہ روش جس کو اہل مغرب اسلامک فنڈامنٹلزم کہتے ہیں، وہ بطور واقعہ موجودہ مسلمانوں کے اندر یقیناً پائی جاتی ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن وحدیث میں غلو کہا گیا ہے اور اس سے منع فرمایا گیا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں یہ غلو بلا شبہ پایا جاتا ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ خود محترمہ مریم صاحبہ بھی شعوری یا غیر شعوری طور پر غلو کی اس نفسیات میں مبتلا ہیں، اور اس کا ایک ثبوت خود ان کا موجودہ غلو آمیز تبصرہ ہے۔
دعا گو وحیدالدین