I am a bearer cheque for you.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۲، صفحہ ۴۵
مقامات پر جو مسلح جہاد چھیڑے ہوئے ہیں وہ سب کا سب غیر حکومتی تنظیموں کے تحت ہورہا ہے، اس لئے ان میں سے کوئی بھی اسلامی جہاد نہیں۔ کشمیر کی جنگ کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی حکومت اس میں شریک ہے۔ مگر پاکستانی حکومت کی یہ شرکت در پردہ اور بلا اعلان ہے، اور قرآن سے ثابت ہے کہ بلا اعلان جنگ اسلام میں نہیں (الانفال ۵۸)۔
۲۔ موصوفہ نے اپنے خط میں تحریر فرمایا ہے کہ جہاد کے بارے میں میرے خیالات شاید حکومت ہند کے صہیونی مشیروں کے زیر اثر بنے ہیں۔ یا یہ کہ رائٹر (راقم الحروف) رسول اللہ ﷺ کا پیرو نہیں ہے بلکہ وہ مہاتما گاندھی کا پیرو ہے۔ یا یہ کہ راقم الحروف کا میڈیا نے برین واش کردیا ہے۔ موصوفہ کی یہ بات عجیب و غریب غلط فہمی پر مبنی ہے۔ اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ انہوں نے اتنا بڑا الزام میرے اوپر کسی حوالہ کے بغیر عائد کر دیا ہے۔ جن لوگوں نے میری تحریریں پڑھی ہیں وہ جانتے ہیں کہ اللہ کے فضل سے میں ایک انتہائی غیر مرعوب انسان ہوں۔ کوئی صہیونی مشیر یا کوئی میڈیا مجھے متاثر نہیں کر سکتا۔ میرا تو حال یہ ہے کہ میں انڈیا میں رہتے ہوئے یہاں کی انتہائی اعلیٰ شخصیتوں پر کھلی تنقید کرتا ہوں۔ مثال کے طور پر مہاتما گاندھی کے بارے میں میری ایک مفصل تنقید نئی دہلی کے انگریزی روز نامہ دی پائیر (۲۶ جنوری ۱۹۹۷) میں دیکھی جاسکتی ہے۔ میری اس تنقید کا ایک حصہ امریکی روزنامہ نیویارک ٹائمز (۳۱ جنوری ۱۹۹۷) میں بھی نقل کیا گیا تھا۔ ۳۔ موصوفہ نے ایک عجیب و غریب بات یہ لکھی ہے کہ وہ میرے مضمون کا ایک ایک پیرا گراف لے کر اس کی مکمل تنقید لکھنا چاہتی تھیں۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اور صرف ایک مختصر خط لکھنے پر اکتفا کیا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ مفصل تنقید سے میں اس لئے رک گئی کہ مجھے محسوس ہوا کہ یہ شیطان ہے جو یہ چاہتا ہے کہ میں اس میں اپنا اتنا زیادہ وقت ضائع کروں:
I realized that only Satan would want me to waste so much time. اس سلسلہ میں میں کہوں گا کہ موصوفہ کے لئے اس معاملہ میں صرف دو میں سے ایک کا انتخاب (option) تھا۔ وہ یہ کہ وہ یا تو کتاب وسنت کے حوالوں کے ذریعہ میرے نقطۂ نظر کی مدلّل تردید کریں