ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۲۵
حصہ لیا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ بنگالی لیڈر اگر مستقبل سے اتنا زیادہ بے خبر تھے تو ان کے لئے سیاست میں حصہ لینا ہی جائز نہ تھا کیوں کہ لیڈر صرف اس شخص کو بننا چاہئے جس کے اندر مستقبل بینی کی صفت ہو۔
یہی معاملہ پاکستان کا ہے۔ اس تحریک کے مفکر اعظم اور قائدِ اعظم کے بیانات کے مطابق، غیر منقسم ہندوستان میں مسلمانوں کو ہندوؤں سے خطرہ تھا۔ اس لئے انہوں نے پاکستان بنوایا تا کہ مسلمان اپنے لئے ایک محفوظ علاقہ حاصل کر لیں۔ اب اگر پاکستان بننے کے باوجود ہندوؤں کا خطرہ مزید اضافہ کے ساتھ باقی ہے تو ہندوؤں کو الزام دینے سے پہلے مفکرِ اعظم اور قائدِ اعظم کی فکری نااہلی کا اعتراف کیا جائے۔ اور یہ مانا جائے کہ یہ لوگ خواہ، جس صلاحیت کے بھی مالک ہوں، مگر وہ بصیرت (vision) سے یقینی طور پر خالی تھے۔ ایسی حالت میں زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ کسی اردو شاعر کے اس مصرعہ کو دہرایا جائے کہ:
ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا
بنگلہ دیش کے ایک اسلام پسند لیڈر حج کرنے گئے۔ وہاں انہوں نے اخبار عرب نیوز کو انٹرویو دیا جو اس کے ۱۳ مارچ ۲۰۰۱ کے شمارہ میں اس عنوان کے تحت چھپا ہے: بنگلہ دیش کی حسینہ حکومت اسلام دشمنی پر تلی ہوئی ہے اس انٹرویو کے چند جملے یہ تھے ــــ یہ حکومت بنگلہ دیش سے اسلام اور مسلمانوں کے نام ونشان کو مٹانے پر تلی ہوئی ہے۔ در حقیقت بنگلہ دیش میں فی الوقت اسلام خطرہ میں ہے۔ ہم تہیہ کئے ہوئے ہیں کہ ہم اپنے جہاد کو اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک کہ ہمیں شہادت یا قیادت نصیب نہ ہو جائے ۔
اس قسم کی باتوں کا تعلق اسلام سے نہیں ہے بلکہ لیڈری سے ہے۔ اس لئے کہ کوئی بھی شخص بنگلہ دیش جا کر دیکھ سکتا ہے کہ اسلام کو مٹانے کی بات لغویت کی حد تک بے بنیاد ہے۔ اور جہاں تک شہادت اور قیادت کی بات کے غیر اسلامی ہونے کا سوال ہے تو اس کو غلط ثابت کرنے کے
‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues