Al-Risala · January 2002 · page 24

She has good reputation of punctuality.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۲۴

ہوتا رہا ہے۔ ۱۹۷۱ تک یہ کہا جاتا تھا کہ تبلیغی جماعت کا سب سے بڑا عالمی اجتماع بنگلہ دیش میں ہوتا ہے۔ اور جب وہاں اجتماعی دعا ہوتی ہے تو اس میں شرکت کے لئے اتنے زیادہ آدمی آتے ہیں کہ شہر خالی ہو جاتا ہے۔ مگر اسی بنگلہ دیش میں ۱۹۷۱ میں مسلمانوں کی باہمی جنگ اتنے بڑے پیمانہ پر ہوئی کہ شاید پوری مسلم تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں۔

کچھ لوگوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مسلمانوں کا باہم ایک دوسرے کا قتل کرنا اسلام میں سراسر حرام ہے۔ اس کو قرآن میں جہنمی فعل کہا گیا ہے۔ پھر طویل دینی سرگرمیوں کے باوجود اس سر زمین میں اتنا بڑا غیر اسلامی واقعہ کیوں ہوا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ صوفیاء کی تحریک اور تبلیغی تحریک دونوں ہی برکت اور فضائل اور مقدس کہانیوں کی بنیاد پر چلائی گئیں ۔ دونوں میں سے کوئی بھی دینی بیداری اور شعوری انقلاب کی بنیاد پر نہیں چلائی گئی۔ چنانچہ لاکھوں لوگ برکت اور فضائل کے تصور کے تحت بظاہر دیندار تو بن گئے مگر ان کی حقیقی سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ یہی خاص وجہ ہے جس کی بنا پر اس دینی سر زمین میں ۱۹۷۱ کا المیہ پیش آیا۔ اصل یہ ہے کہ کوئی حقیقی اسلامی تحریک فکری انقلاب کی بنیاد پر چلتی ہے، نہ کہ برکت اور فضیلت کی بنیاد پر۔

۱۹۷۱ میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان جو خونی جنگ ہوئی اور جس کے بعد مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بنا اس پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ بنگلہ دیش میں چھپنے والی کتابوں کو پڑھئے تو معلوم ہوگا کہ اس خونی واقعہ کا سبب پاکستان کا ظلم تھا۔ اس کے برعکس پاکستان میں چھپنے والی کتابیں بتاتی ہیں کہ اس کے پیچھے بنگلہ دیش کے ہندو تھے۔ ان ہندوؤں نے سازش کے ذریعہ بنگلہ دیش کو پاکستان سے الگ کروایا۔

میں نے کچھ لوگوں سے کہا کہ یہ دونوں ہی توجیہیں سطحی ہیں۔ اس معاملہ کا اصل ذمہ دار اگر کوئی ہے تو وہ دونوں ملکوں کے مسلم لیڈر ہیں۔ ۱۹۴۷ سے پہلے جب پاکستان کی تحریک چل رہی تھی تو بنگلہ دیش کے لیڈروں بشمول شیخ مجیب الرحمن نے اس تحریک میں نہایت جوش کے ساتھ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues

Printed page