ذہاب العلماء
الرسالہ، جون ۲۰۰۲، صفحہ ۴
میں اعلیٰ صلاحیت کے لوگوں کو ایسے برتر امکانات نظر آنے لگے جو پہلے کبھی نہیں تھے۔ قدیم زمانہ میں معیشت کا دار و مدار زیادہ تر روایتی انداز کی زراعت پر تھا۔ اس نظام کے تحت کمائی کے مواقع بہت محدود ہوتے تھے۔ مگر جدید ٹیکنالوجی اور جدید تجارتی شعبوں نے کمائی کے مواقع لاکھوں گنا زیادہ بڑھادیے ہیں۔ اب ”عاجلہ“ میں اتنی زیادہ کشش پیدا ہوگئی ہے جو پہلے کبھی نہیں تھی۔ مادی ترقی کی یہی بڑھی ہوئی کشش ہے جس نے اعلیٰ صلاحیت کے لوگوں کا رخ اُن تعلیمی اداروں سے ہٹا دیا جہاں علماء پیدا کئے جاتے ہیں۔ وہ تیزی کے ساتھ اُن سیکولر تعلیمی اداروں کی طرف بھاگنے لگے جہاں وہ افراد پیدا کئے جاتے ہیں جو جدید ترقیاتی شعبوں میں اعلیٰ مناصب پاسکیں۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو مولانا مجاہد الاسلام قاسمی حقیقی معنوں میں دورِ جدید کے اسلامی مجاہد تھے۔ موجودہ زمانہ میں سب سے بڑا جہاد یہ ہے کہ ایک باصلاحیت آدمی مواقع دنیا کے مقابلہ میں مواقع دین کے لیے اپنے آپ کو وقف کر سکے۔ یہ قربانی کی وہ قسم ہے جو کسی آدمی کو عظیم مجاہد بنا دیتی ہے، اور مولانا مرحوم بلاشبہ اس معنیٰ میں دورِ جدید کے مجاہدِ اسلام تھے۔
مولانا مجاہد الاسلام قاسمی کی متنوع خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ تھی کہ وہ اپنے ہر دل عزیز اوصاف کی بنا پر ہر طبقہ کے درمیان مقبول تھے۔ مسلمانوں کے ہر مکتبِ فکر کے درمیان اُن کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ ایک ممتاز عالم ہونے کے ساتھ ایک مقبول رہنما کی حیثیت رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ نئی نسل کے درمیان ایسے لوگ پیدا ہوں جو مولانا مرحوم کی راہ پر چلیں۔ ملت کے درمیان ایسے افراد کا خلا نہ ہونے پائے جن کو بیک وقت علمی استناد بھی حاصل ہو اور اسی کے ساتھ عوام کی مقبولیت بھی۔ مولانا مرحوم کی زندگی جدید مسلم نسل کو یہ مثبت پیغام دیتی ہے کہ میری موت کو ماتم کا عنوان نہ بناؤ، بلکہ اُس کو عزمِ نو کا عنوان بناؤ۔ ملت کے کام کو میں نے جہاں چھوڑا ہے وہاں سے آغاز کر کے آگے بڑھو۔ تعمیر ملت کے عمل کو مسلسل جاری رکھو۔ یہاں تک کہ تم اُس کی آخری منزل پر پہنچ جاؤ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2002 All issues