جنت کا ٹکٹ
الرسالہ، جون ۲۰۰۲، صفحہ ۵
جنت کا ٹکٹ
ایک مسلمان نے دوسرا نکاح کر لیا۔ اس پر ان کی پہلی بیوی بہت ناراض ہو گئیں۔ دوسرے نکاح سے پہلے وہ ایک دین دار خاتون مشہور تھیں۔ مگر دوسرے نکاح کے بعد انہوں نے گھر کے اندر اتنا طوفان برپا کیا کہ اُن کے شوہر دل کے مریض بن گئے۔ میں نے مذکورہ خاتون کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ میں ذاتی طور پر موجودہ عملی حالات میں دوسرے نکاح کا قائل نہیں ہوں۔ مگر آپ کے لیے یہ دوسرا نکاح گویا ایک خدائی امتحان تھا جس میں آپ ناکام ہو گئیں۔ یاد رکھیے، جنت کا ٹکٹ موافق حالات میں دین داری پر نہیں ملتا بلکہ وہ غیر موافق حالات میں دین داری پر ملتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کیا۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ صرف یہ کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور اُن کو جانچا نہ جائے گا۔ (العنکبوت ۲-۳)۔
اصل یہ ہے کہ دین داری کی دو صورتیں ہیں۔ ایک ہے، معمول کے حالات میں دین داری۔ دوسری دین داری وہ ہے جب کہ حالات غیر موافق ہو جائیں۔ جب آدمی کو اپنے بھڑکے ہوئے جذبات پر قابو رکھ کر دینی حکم کا پابند بننا پڑے۔ اسی دوسری صورتِ حال کا نام آزمائش ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی عورت یا مرد کے لیے جنت کا فیصلہ صرف اُس وقت ہوتا ہے جب کہ اٗس پر اس دوسری نوعیت کے حالات گزریں۔ مگر وہ اپنے آپ کو پوری طرح قابو میں رکھے۔ وہ غیر معمولی حالات میں بھی اِسی طرح دینی تقاضوں پر عمل کر لے جس طرح کوئی شخص معمول کے حالات میں دینی تقاضوں پر عمل کرتا ہے۔
جانچ کا یہ لمحہ ہر مسلم عورت اور ہر مسلم مرد پر ضرور آتا ہے۔ مزید یہ کہ جانچ کا یہ لمحہ اعلان کے ساتھ نہیں آتا بلکہ وہ اعلان کے بغیر آتا ہے۔ جو لوگ اس لمحہ کو پہچانیں اور جانچ میں پورے اُتریں وہی کامیاب ہیں اور جو لوگ اس لمحہ کو نہ پہچانیں اور جانچ میں پورے نہ اُتریں وہ اللہ کی نظر میں ناکام قرار پائیں گے، خواہ کسی اور اعتبار سے بظاہر وہ کتنا ہی زیادہ دین دار بنے ہوئے ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2002 All issues