Al-Risala · June 2002 · page 8

لائن آف ایکشن کا مسئلہ

الرسالہ، جون ۲۰۰۲، صفحہ ۸

حاصل کرنے کے بجائے مسلمان صرف یہ کرتے ہیں کہ وہ ہر الیکشن کے موقع پر تقسیم ہو کر ووٹ کی طاقت کو ضائع کر دیتے ہیں۔ الیکشن ان کے ووٹوں کا ایک سیاسی قبرستان بن کر رہ جاتا ہے۔ (واضح ہو کہ پارلیمنٹ کی تقریبا سوسٹوں پر مسلم ووٹر فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں) یہی معاملہ جمعیۃ علماء ہند کا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے تقریباً ہر موقع پر یہ لائحہ عمل پیش کیا ہے کہ مسلمان ایسا طریق کار نہ اختیار کریں جس میں ہندو اور مسلم کے درمیان ٹکراؤ کی فضا بنے۔ اس کے بجائے وہ خاموش تدبیر اور تعمیری اسلوب کو اختیار کرتے ہوئے اپنا مسئلہ حل کریں۔ مگر ہر بار یہی ہوا ہے کہ مسلمان جمعیۃ علماء ہند کے بتائے ہوئے اس لائحہ عمل کو اختیار نہیں کر پاتے۔ گویا لائحہ عمل موجود ہے مگر لائحہ عمل کی قبولیت اور پیروی موجود نہیں۔

اس فہرست میں کسی قدر فرق کے ساتھ خود الرسالہ مشن کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے۔ الرسالہ مشن کے تحت مسلمانوں کے سامنے نہایت واضح اور مدلل انداز میں ۱۹۷۶ سے یہ لائحہ عمل پیش کیا جا رہا ہے کہ مسلمان کا اصلی اور ابدی مشن دعوت ہے۔ اس ملک میں مسلمان اور برادران وطن کا تعلق داعی اور مدعو کا تعلق ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اللہ کی طرف سے مقرر کئے ہوئے اپنے اس فریضہ کو پہچانیں ۔ وہ دعوت کے آداب اور دعوت کی حکمتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس ملک میں دین حق کی پرامن پیغام رسانی کا کام انجام دیں۔ مگر ربع صدی سے زیادہ مدت تک مسلسل جدوجہد کے باوجود ابھی تک مسلمانوں کی صرف ایک محدود تعداد ہی نے اس راہ عمل کو عملاً اختیار کیا ہے۔ یہ طویل تجربہ بتاتا ہے کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ راہ عمل کی غیر موجودگی نہیں ہے بلکہ جذبہ قبولیت کی غیر موجودگی ہے۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کے درمیان حقیقی کام کا آغاز صرف یہ نہیں ہو سکتا کہ تقریر یا تحریر کی صورت میں ایک راہ عمل یا لائن آف ایکشن کا اعلان کر دیا جائے۔ موجودہ حالات میں اس کے لیے شعوری تعمیر اور ذہنی بیداری کی ایک مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہے۔ پہلے شعوری اعتبار سے لوگوں میں مادہ قبولیت پیدا کیجئے، اس کے بعد ہی راہ عمل کے اعلان کا کوئی مفید عملی نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے، اس کے بغیر ہرگز نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2002 All issues

Printed page