Al-Risala · June 2002 · page 9

با مقصد انسان کا کردار

الرسالہ، جون ۲۰۰۲، صفحہ ۹

با مقصد انسان کا کردار

صہیب بن سنان الرومی ان اصحاب رسول میں سے ہیں جنہوں نے دور اول میں اسلام قبول کیا۔ اُن کی پیدائش موصل میں ہوئی۔ انہوں نے مدینہ میں ۳۸ھ میں وفات پائی۔ بوقت وفات اُن کی عمر تقریبا ستّر سال تھی۔ اُن سے تین سو سات حدیثیں مروی ہیں۔ اُن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أنا سابق العرب، وصہیب سابق الروم۔ صہیب رومی کا تذکرہ تاریخ اسلام کی اکثر کتابوں میں آیا ہے۔ مثلاً طبقات ابن سعد، تاریخ ابن عسا کر، وغیرہ ۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صہیب رومی ایک اونچے خاندان کے فرد تھے۔ پھر وہ مکہ میں تجارت کرنے لگے۔ انہوں نے تجارت میں کافی دولت کمائی (كان صہیب قد ربح مالا وفيرا من تجارته)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ سے مدینہ کے لیے ہجرت فرمائی تو صہیب رومی نے بھی ہجرت کا فیصلہ کیا۔ روایات بتاتی ہیں کہ اُن کی ہجرت کی خبر لوگوں کو ہو گئی۔ چنانچہ قریش کے کچھ نوجوان اُن کے پاس آئے۔ انہوں نے کہا کہ تم نے اپنا یہ مال مکہ میں حاصل کیا ہے۔ اس کو لے کر ہم تم کو مدینہ نہیں جانے دیں گے۔ صہیب رومی نے کہا کہ اگر میں تم کو اپنا مال دے دوں تو کیا تم مجھ کو جانے دو گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ اس کے بعد صہیب رومی نے اپنا سارا مال اُن کے حوالہ کر دیا (فجعل لهم ماله أجمع)

اپنا مال قریش کے حوالہ کر کے صہیب رومی مدینہ کے لیے روانہ ہوئے۔ وہ مدینہ پہنچے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور آپ کو مکہ کا پورا واقعہ بتایا۔ اُس کو سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یا أبا يحيى ربح البيع (اے ابو یحییٰ، تمہاری تجارت کامیاب رہی) ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: ربح صہیب ربح صہیب صہیب کی تجارت کامیاب رہی، صہیب کی تجارت کامیاب رہی)۔ البدایة والنہایة لابن کثیر، الجزء الثالث، صفحه ۱۷۳ - ۱۷۴۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2002 All issues

Printed page