کام کا صحیح طریقہ
الرسالہ، جون ۲۰۰۲، صفحہ ۱۲
کام کا صحیح طریقہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کار کیا تھا ، اس سوال کا جواب حضرت عائشہ کی ایک روایت میں ملتا ہے: ما خير النبی صلی اللہ علیہ وسلم بین أمرين إلا اختار ايسرهما۔ (صحیح البخاری ، کتاب الحدود ، باب اقامة الحدود)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو امر میں سے ایک امر کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب فرماتے تھے۔ حدیث میں أیسر کا لفظ ہے۔ اس کی تشریح شارحین حدیث نے عام طور پر اسہل کے لفظ سے کی ہے (فتح الباری ۶ / ۶۶۵) یعنی زیادہ سہل۔ مگر اسهل (سہل تر) کے لفظ سے اُس کی اصل حقیقت واضح نہیں ہوتی۔ پیغمبر اسلام اور دوسرے تمام پیغمبر، قرآن کے بیان کے مطابق، اولو العزم پیغمبر (الاحقاف ۳۵) تھے۔ کوئی پیغمبر کبھی سہل پسند نہیں ہوتا۔ سہل پسندی پیغمبر کے مزاج کے خلاف ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس حدیث میں أیسر کا لفظ زیادہ قابل عمل کے معنی میں ہے، نہ کہ سادہ طور پر محض سہل کے معنی میں۔
حضرت عائشہ کی اس روایت کا مفہوم اگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی سیرت کی روشنی میں متعین کیا جائے تو اس سے پوری حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔ اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو اس روایت میں أیسر سے مراد قابل حصول نقشہ کار (available framework) ہے۔ ہر صورت حال میں دو عملی طریقہ ممکن ہوتا ہے۔ ایک وہ طریقہ جو بروقت موجود نقشہ ہی میں قابل عمل ہو۔ اور دوسرا طریقہ وہ جس کا تقاضا یہ ہو کہ پہلے موجود نقشہ کو بدلا جائے ، اُس کے بعد ہی اپنا مطلوب عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ اُس نقشہ کار میں اپنا عمل جاری کیا جو بروقت آپ کے لیے ممکن اور قابل حصول تھا۔ اس پیغمبرانہ طریقہ کار کی ایک مثال یہ ہے کہ قدیم مکہ میں آپ کو دین توحید کی تبلیغ کا کام کرنا تھا۔ اب اس کی دو صورتیں تھیں۔ ایک یہ کہ کعبہ کے موجود اجتماع گاہ کو استعمال کیا جائے جہاں بتوں کی پوجا کے لیے لوگ پہلے سے اکٹھا ہوا کرتے تھے۔ دوسرے یہ کہ آپ اس سے
‹ Previous page Next page › Contents of June 2002 All issues