Al-Risala · June 2002 · page 13

کام کا صحیح طریقہ

الرسالہ، جون ۲۰۰۲، صفحہ ۱۳

الگ اپنا کوئی نیا مقام بنائیں، دوسرا اور نیا اجتماع گاہ بنانا اس وقت سخت مشکل کام تھا۔ اس کے برعکس کعبہ کا صحن یک بنے بنائے اجتماع گاہ کی صورت میں موجود تھا۔ پیغمبر اسلام نے بتوں کی موجودگی کے ناپسندیدہ پہلو کو وقتی طور پر نظر انداز کرتے ہوئے اس موجود نقشہ کار کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اور وہاں اپنے دعوتی خطاب کا مستقل سلسلہ شروع کر دیا۔

کام کا یہی وہ عملی طریقہ ہے جس کو مذکورہ حدیث میں اختیارِ ایسر کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں قابل حصول نقشہ کار (available framework) سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں نے اس پیغمبرانہ حکمت کو نہیں سمجھا۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ وہ ایسر اور اعسر میں فرق نہ کر سکے۔ اُن کے لیے قابل حصول نقشہ کار موجود تھا مگر اپنی بے خبری کی بنا پر وہ نا قابل حصول نقشہ کار میں اپنی عملی سرگرمیاں دکھاتے رہے۔ قانونِ فطرت کے مطابق، اس کا نتیجہ صرف ایک طرفہ تباہی ہو سکتا تھا اور وہی اُن کے حصہ میں پیش آیا۔

برصغیر ہند میں اس کی ایک مثال انگریزوں کے خلاف علماء ہند کی پر تشدد تحریک ہے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ علماء کی یہ پُر تشدد تحریک ساٹھ سالہ قربانیوں کے باوجود اپنے مقصد میں ناکام رہی۔ اس کے برعکس مہاتما گاندھی کی انہی انگریزوں کے خلاف پر امن تحریک صرف پچیس سال میں اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب ہوگئی۔ اس فرق کا واحد سبب یہ تھا کہ مہاتما گاندھی کی پر امن جد و جہد قابل حصول نقشہ کار کے دائرہ میں تھی، جب کہ علماء ہند کی پرتشدد جد و جہد نا قابلِ حصول نقشہ کار کے دائرہ میں۔

اس معاملہ کی دوسری مثال الاخوان المسلمون کی تحریک ہے۔ انہوں نے مصر میں شاہ فاروق (وفات ١٩٦٥) اور صدر جمال عبدالناصر (وفات ۱۹۷۰) کو مغرب نواز اور اسلام دشمن قرار دے کر اُن کے خلاف پرتشدد تحریک چلائی۔ مگر غیر معمولی قربانیوں کے باوجود اخوانیوں کے حصہ میں کچھ بھی نہیں آیا۔ البتہ مصر ایک تباہ شدہ ملک ہو کر رہ گیا۔ مزید یہ کہ اسی اخوانی فکر کے لوگ اپنے ملک میں سیاسی دارو گیر سے بھاگ کر بڑی تعداد میں امریکہ گئے۔ اب وہ وہاں مختلف قسم کے اسلامی ادارے

‹ Previous page Next page › Contents of June 2002 All issues

Printed page