دہشت گردی کیا ہے
الرسالہ، جون ۲۰۰۲، صفحہ ۱۶
دہشت گردی کیا ہے
آج کل آتنک واد یا دہشت گردی (terrorism) کا بہت زیادہ چرچا ہے۔ تقریباً ہر ملک میں اس موضوع پر لکھا اور بولا جارہا ہے۔ مگر میرے علم کے مطابق ، ابھی تک اس کی کوئی واضح تعریف سامنے نہ آسکی۔ لوگ آتنک واد کی مذمت کرتے ہیں، مگر وہ بتا نہیں پاتے کہ آتنک واد متعین طور پر ہے۔ راقم الحروف نے اس سوال کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ میرے مطالعہ کے مطابق، غیر حکومتی تنظیموں کا ہتھیار اٹھانا آتنک واد ہے :
Armed struggle by non-governmental organisations
اسلام آزادی کا حق تسلیم کرتا ہے۔ اسلامی تعلیم کے مطابق ، قومی یا سیاسی مقصد کے لیے پرامن تحریک چلانے کا حق کسی بھی شخص یا جماعت کو حاصل ہے۔ یہ حق اُس کو اس وقت تک حاصل رہے گا جب تک وہ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر جارحیت کا ارتکاب نہ کرے۔ اسلام میں ہتھیار کا استعمال یا کسی حقیقی ضرورت کے تحت مسلح عمل کا حق صرف باقاعدہ طور پر قائم شدہ حکومت کو حاصل ہے۔ غیر حکومتی تنظیمیں (NGOs) کو کسی بھی عذر کی بنا پر ہتھیار اٹھانے کا حق حاصل نہیں (اس اسلامی حکم کی تفصیل میری کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے)۔
مجرم کو سزا دینا، حملہ آور کے مقابلہ میں دفاع کرنا، اس طرح کے امور جو بین اقوامی اصول کے مطابق ، کسی قائم شدہ حکومت کو مسلح کارروائی کا حق دیتے ہیں۔ یہی خود اسلام کا اصول بھی ہے۔ اس اصول کی روشنی میں ٹیررزم کی تعریف یہ ہے کہ — ٹیر رزم اُس مسلح کارروائی کا نام ہے جو کسی غیر حکومتی تنظیم نے کی ہو۔ یہ غیر حکومتی تنظیم خواہ کوئی بھی عذر پیش کرے مگر وہ ہر حال میں نا قابل قبول ہوگا۔ ایک غیر حکومتی تنظیم اگر یہ محسوس کرتی ہے کہ ملک میں کوئی بے انصافی ہوئی ہے یا حقوق کی پامالی کا واقعہ پیش آیا ہے تو اُس کو صرف یہ حق ہے کہ وہ پر امن جد و جہد کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنی کوشش کو جاری کرے۔ وہ کسی بھی حال میں اور کسی بھی عذر کی بنا پر تشدد کا طریقہ نہ اختیار کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2002 All issues