Al-Risala · June 2002 · page 24

آگ کو بجھانا، نہ کہ بھڑکانا

الرسالہ، جون ۲۰۰۲، صفحہ ۲۴

آگ کو بجھانا، نہ کہ بھڑکانا

قرآن کی سورہ نمبر ۵ میں ارشاد ہوا ہے: کلما او قدوا نارا للحرب اطفاہ اللہ - (المائدہ ۶۴) یعنی جب کبھی وہ لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں تو اللہ اُس کو بجھا دیتا ہے۔ اس آیت میں وقت نزول کے اعتبار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاصر یہود مراد تھے۔ مگر اپنی اصل کے اعتبار سے یہ ایک عمومی حکم ہے اور وہ اہل اسلام کے لیے ابدی رہنما کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے یہ اصول معلوم ہوتا ہے کہ مخالف فریق اگر آگ بھڑکانے کی کوشش کرے تو اہل اسلام کا کام یہ ہے کہ وہ اُس کو فوراً بجھانے کی تدبیر کریں، نہ کہ وہ اُس کو مزید بھڑکائیں۔ مثال کے طور پر ایک بس میں کچھ غیر مسلم مسافر سفر کر رہے ہیں۔ اُس میں ایک باریش مسلمان بھی موجود ہے۔ بس میں کچھ غیر سنجیدہ قسم کے غیر مسلم ہیں۔ وہ مذکورہ مسلمان سے دل آزاری کی باتیں کرتے ہیں۔ وہ اُس کو اشتعال دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر بس جب اپنے اسٹیشن پر رکتی ہے تو مذکورہ مسلمان باہر آ کر بلند آواز سے یہ کہتا ہے کہ اے مسلمانو، اس بس کے مسافروں نے میری بے عزتی کی ہے، تم ان کو سبق دو۔

اس کے بعد مقامی مسلمان بھڑک اٹھتے ہیں۔ وہ بس پر یورش کر دیتے ہیں۔ بات بڑھتی ہے۔ یہاں تک کہ غصہ میں بھرے ہوئے مسلمان بس میں آگ لگادیتے ہیں۔ اس آگ میں بس بھی تباہ ہوتی ہے اور اُس کے بیشتر مسافر جل کر مر جاتے ہیں۔

مذکورہ مسلمانوں کا یہ رویہ قرآن کی تعلیم کے سراسر خلاف ہے۔ قرآن کی مذکورہ آیت کی روشنی میں اس معاملہ پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ بس کے غیر مسلم مسافروں نے جو آگ بھڑکائی تھی اُسے مسلمانوں کو بجھانا چاہیے تھا۔ پر امن تدبیر کے ذریعہ انہیں اشتعال کو ٹھنڈا کرنا چاہئے تھا۔ مگر انہوں نے اس کے برعکس عمل کیا۔

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب بس کو اور اُس کے مسافروں کو زندہ جلانے کی خبر پھیلی تو پوری ریاست

‹ Previous page Next page › Contents of June 2002 All issues

Printed page