آگ کو بجھانا، نہ کہ بھڑکانا
الرسالہ، جون ۲۰۰۲، صفحہ ۲۵
کے غیر مسلم غصہ میں بھڑک اٹھے۔ انہوں نے ریاست میں بے بس ہوئے مسلمانوں کو جلانا اور مارنا شروع کیا۔ اُن کی دکانوں اور مکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اس طرح بس کے ایک مسلمان مسافر کے ساتھ بد تمیزی کی صورت میں جو بُرائی پیش آئی تھی وہ بہت بڑے اضافہ کے ساتھ پوری ریاست کے مسلمانوں پر ٹوٹ پڑی۔ آگ لگانے والے اگر آگ لگائیں تب بھی مسلمان کا کام اُس کو بجھانا ہے، نہ کہ اُس کو مزید بھڑکانا۔
نزاع کے معاملہ میں جوابی سلوک کی تین قسمیں ہیں۔ (1) زیادتی کرنے والے کے ساتھ مزید اضافہ کے ساتھ زیادتی کرنا (۲) زیادتی کا جواب برابر کی زیادتی سے دینا (۳) زیادتی کرنے والے کو یک طرفہ طور پر معاف کر دینا۔ اس طرح کے معاملہ میں ان کے علاوہ کوئی چوتھی صورت غالباً نہیں ہے۔
زیادتی کا جواب مزید زیادتی کے ساتھ دینا اصل مسئلہ کو تو حل نہیں کرتا، البتہ وہ انتقام اور جوابی انتقام کا جذبہ بھڑکا کر مسئلہ کو اور زیادہ سنگین بنا دیتا ہے۔ فریق ثانی بھی دوبارہ مزید اضافہ کے ساتھ زیادتی کا منصوبہ بناتا ہے۔ اس طرح بُرائی ایک ایسی حد پر پہنچ جاتی ہے جس کو ختم کرنا کسی طرح ممکن نہیں ہوتا۔
زیادتی کا جواب برابر کی زیادتی سے دینا اگر چہ جائز ہے مگر وہ بھی منفی جذبات پیدا کرنے والا ہے اس لیے بہتر ہے کہ اُس سے پرہیز کیا جائے۔ کیوں کہ اس کے ذریعہ دل کی بھڑاس تو نکل سکتی ہے مگر وہ مسئلہ کو حل کرنے والی نہیں۔
اس طرح کے نزاع کا سب سے بہتر حل یہ ہے کہ اُس کو یک طرفہ طور پر معاف کر دیا جائے۔ اس طرح کا اعلیٰ سلوک نزاع کو پہلے ہی مرحلہ میں ختم کر دیتا ہے۔ وہ ظالم کے مقابلہ میں مظلوم کو اخلاقی فتح عطا کرتا ہے اور بلاشبہ اخلاقی فتح سے بڑی کوئی چیز اس دنیا میں نہیں۔ اخلاقی فتح بلاشبہ سیاسی فتح سے بھی زیادہ عظیم ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2002 All issues