ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۲۸
لئے یہی کافی ہے کہ کبھی کسی صحابی نے ایسا نہیں کہا کہ میرا مقصد شہادت یا قیادت کا حصول ہے۔ یہ اسلام کے نام پر لیڈری ہے، اس سے زیادہ اس کی اور کوئی حقیقت نہیں۔ ڈھاکہ بنگلہ دیش کی راجدھانی ہے۔ ۱۹۷۲ میں یہ ایک معمولی قصبہ تھا۔ اب یہ ایک شاندار شہر بن چکا ہے۔ تاہم بنگلہ دیش کے آدھے سے زیادہ لوگ دیہاتوں میں رہتے ہیں۔ وہ لوگ ابھی تک غربت کے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اگر کوئی شخص یہاں کے ایک غریب دیہاتی کو دیکھ کر کہے کہ تم جھونپڑی میں کیوں زندگی گزار رہے ہو، ڈھاکہ کے شیریٹن ہوٹل میں ایک کمرہ کرایہ پر کیوں نہیں لے لیتے۔ یہ جملہ گرامر کے لحاظ سے بالکل درست ہے مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ آخری حد تک غلط ہے۔ غریب دیہاتی کے لئے یہ معاملہ ایک ممکن اور دوسرے ممکن کے درمیان انتخاب کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ناممکن کے مقابلہ میں ممکن پر راضی ہونے کا معاملہ ہے۔
کسی غریب دیہاتی نے کبھی ایسی بات سوچی نہیں ہوگی۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں میں سے ہر ایک اسی قسم کی بات بول رہا ہے۔ اور بہت سے نادان لوگ تالیاں بجا کر اس کو مفکر اعظم کا خطاب دے رہے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے تقریباً ہر مسلم رہنما نے یہ کیا کہ قوم کو حقیقت کے بجائے خواب کی دنیا میں دوڑایا۔ ممکن کو چھوڑ کر ناممکن کے میدان میں سرگرم کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ساری مسلم دنیا میں عظیم لیڈر تو ضرور دکھائی دیتے ہیں مگر عظیم ملت کہیں نظر نہیں آتی۔ جیسا کہ معلوم ہے، بنگلہ دیش ۱۹۷۲ سے پاکستان کا حصہ تھا۔ جنوری ۱۹۷۲ میں پاکستان سے ٹوٹ کر وہ ایک علیحدہ ملک بنا۔ ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ جب یہ خبر آئی تو میں نے اپنی ڈائری میں اپنا ایک احساس تحریر کیا تھا جو الجمعیۃ ویکلی (نئی دہلی) کے شمارہ ۳۰ جون ۱۹۷۲ کے صفحہ اول پر چھپا۔ اس کے الفاظ یہ تھے :
میں نے لکڑی کو توڑا اور لکڑی ہمیشہ کے لئے دو ٹکڑے ہو گئی۔ میں نے سمجھا کہ میں نے اپنے حریف کو ختم کرنے کا نہایت قیمتی راز معلوم کر لیا ہے۔ مگر میں بھول گیا
‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues