Al-Risala · January 2002 · page 29

ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۲۹

کہ میرا حریف ایک زندہ وجود ہے، لکڑی نہیں ہے۔ میں لکڑی کو توڑ سکتا ہوں مگر میں ایک زندہ چیز کو نہیں توڑ سکتا۔ ایک امیبا(Amoeba) جب ٹوٹتا ہے تو وہ دو زندہ امیبا بن جاتا ہے۔

انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا ۱۹۸۳ نے اپنے بنگلہ دیش کے آرٹیکل کے تحت لکھا ہے کہ تیر ہویں صدی میں تھوڑے سے مسلمانوں کی آمد نے اس علاقہ کے کیریکٹر کو مستقل طور پر بدل دیا۔ اس تبدیلی میں بڑا حصہ صوفیوں کا تھا۔ ‘ The arrival of a handful of Muslims in Bengal at the begining of the 13th century permanently changed the character and culture of the area. There were several reasons for the increase in the Muslim population. Perhaps the most significant was the activity of ascetic divines and Sufi mystics, who won converts among the lower castes of the Hindus (2/690)

برٹانیکا کی اس بات کا ذکر کرتے ہوئے میں نے ایک صاحب سے کہا کہ یہ بات غالباً صرف جزئی طور پر درست ہے۔ کیوں کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ صوفیاء کی تحریک نے اس علاقہ کے لوگوں کے مذہب کو تو بدلا مگر ان کے کلچر اور ان کے رسم و رواج کو وہ بہت کم بدل سکے۔ اس کے نقصانات مختلف صورتوں میں آج تک ظاہر ہو رہے ہیں۔ یہاں کا اسلام پسند طبقہ جو اقلیت میں ہے، وہ اس صورت حال کو سیاسی طاقت کے زور پر بدلنا چاہتا ہے۔ مگر اس صورت حال کو صرف تعلیم کے ذریعہ بدلا جا سکتا ہے، کوئی دوسرا ذریعہ اس کو بدلنے کا نہیں۔ بنگلہ دیش کا ایک خاص ایڈوانٹیج یہ ہے کہ اس کی تقریباً پوری آبادی صرف ایک زبان بولتی ہے، یعنی بنگلہ زبان۔ اس اعتبار سے وہ انڈیا اور پاکستان دونوں سے زیادہ بہتر پوزیشن میں ہے۔ اس کی وجہ سے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ صرف ایک زبان کے ذریعہ پوری قوم کو خطاب کیا جاسکے۔ کمیونی کیشن کے جدید دور میں لسانی یکسانیت کسی قوم کا ایک عظیم سرمایہ سمجھی جاتی ہے اور یہ قیمتی سرمایہ بنگلہ دیش کو پوری طرح حاصل ہے۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے میں نے اپنے اس خیال کا

‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues

Printed page