Al-Risala · July 2002 · page 53

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۵۳

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۵۳

فنِ تفکر Art of Thinking تفکر (thinking) انسان کے تمام اعمال میں سب سے بڑا عمل ہے۔ سچی تفکیر ایک اعلیٰ عبادت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ابوالدرداء صحابی کی وفات کے بعد اُن کی اہلیہ سے پوچھا گیا کہ ابوالدرداء کا افضل عمل کیا تھا۔ انہوں نے جواب دیا: التفکر والاعتبار (سوچنا اور عبرت پکڑنا)۔ اِسی طرح ایک اور صحابی ابوذر کی وفات کے بعد ان کی اہلیہ سے پوچھا گیا کہ ابوذر کی خاص عبادت کیا تھی۔ انہوں نے جواب دیا: کان النهار أجمع خالياً يتفکر (وہ پورے دن تنہا سوچتے رہتے تھے)۔ حیاۃ الصحابۃ، ۲/ ۶۲۷۔

سوچنے کا عمل ذہن (mind) کی سطح پر ہوتا ہے، اور انسانی وجود میں سب سے بڑی چیز یہی ذہن ہے۔ سوچنے کا عمل ذہنی ارتقاء کا ذریعہ ہے۔ تمام بڑی بڑی باتیں سوچنے کے ذریعہ ہی دریافت ہوئی ہیں۔ سوچنا آدمی کو حیوانی سطح سے اٹھا کر انسانیت کی اعلیٰ سطح تک پہنچاتا ہے۔ سوچنے کے عمل کے ذریعہ ایک چیز اور دوسری چیز کا فرق معلوم ہوتا ہے۔ سوچنے کے ذریعہ مشکلات کا حل دریافت ہوتا ہے۔ سوچنے کے ذریعہ چھپی ہوئی حقیقتیں انسان کے علم میں آتی ہیں۔ سوچنے کے ذریعہ آدمی یہ معلوم کرتا ہے کہ وہ کس طرح اپنے مائنس پوائنٹ کو پلس پوائنٹ میں تبدیل کر سکے۔ سوچنا آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے عمل کی مؤثر منصوبہ بندی کرے، اور جو آدمی منصوبہ بند عمل کی صلاحیت رکھتا ہو وہ اس دنیا میں کبھی ناکام ہونے والا نہیں۔

سوچنا ہر آدمی کی پیدائشی صفت ہے۔ مگر صحیح طرزِ فکر (right thinking) صرف اُس شخص کے اندر ہوتی ہے جو اپنے آپ کو شعوری طور پر اس کے لیے تیار کرے۔ صحیح طرزِ فکر کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنی پسند اور ناپسند سے اوپر اُٹھ کر سوچنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ وہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھے جیسا کہ وہ ہیں، نہ کہ ویسا جیسا کہ وہ خود انہیں دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ جانبدارانہ سوچ سے مکمل طور پر پاک ہو۔ وہ

‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues

Printed page