الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۵۴
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۵۴
سوچنے کے نتیجہ کو ہر حال میں قبول کرنے کے لیے تیار ہو، خواہ وہ اُس کے موافق ہو یا اُس کے خلاف۔ علم بغیر معرفت قرآن میں ارشاد ہوا ہے: واتقوا اللہ و یعلمکم اللہ (البقرہ ۲۸۲)۔ اس آیت میں علم سے مراد فہم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس آدمی کے اندر اللہ کا تقویٰ ہوگا، اُس کا تقویٰ اُس کے اندر فہم دین پیدا کرے گا (تفسیر القرطبی ۳/ ۳؍۴۰۶) اس سے معلوم ہوا کہ یہ ممکن ہے کہ ایک شخص کے اندر معلومات ہو مگر اس کے اندر حقیقی فہم دین نہ ہو، کیونکہ فہم و بصیرت کا سرچشمہ تقویٰ ہے، نہ کہ صرف معلومات۔ اسی لیے حدیث میں یہ دعا آئی ہے کہ: اللهم إنى اعوذ بك من علم لا ينفع (مسند احمد، الجزء الثانی، صفحہ ۱۶۷) یعنی اے اللہ، میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دے۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجیے۔ موجودہ زمانہ میں پر جوش مسلمانوں نے مختلف مقامات پر جہاد کے نام سے جو لڑائیاں چھیڑ رکھی ہیں اُن میں اُنہیں یک طرفہ طور پر تباہی سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ اب وہ شکست خوردہ نفسیات کے تحت خودکش بمباری (suicide bombing) کا طریقہ اختیار کر رہے ہیں۔ وہ اپنے جسم کے ساتھ بم باندھ کر مفروضہ دشمن کے علاقوں میں داخل ہوتے ہیں اور بم دھماکہ کر کے جان بوجھ کر خود بھی ہلاک ہوتے ہیں اور کچھ دوسرے لوگوں کو بھی ہلاک کرتے ہیں۔ یہ واقعہ واضح طور پر خودکشی کا واقعہ ہے اور خودکشی کو اسلام میں حرام موت قرار دیا گیا ہے۔ مگر کچھ علماء نے اُس کو استشهاد ( طلب شہادت ) کا نام دیتے ہوئے اُس کو جائز قرار دیا ہے۔ اس سلسلہ میں دورِ صحابہ کے بعض واقعات سے استدلال کیا جاتا ہے۔ مثلاً یہ لوگ خلافت صدیقی کے ایک واقعہ کا حوالہ دیتے ہیں اور اُس کو اپنے نظریے کے حق میں ایک قطعی دلیل بتاتے ہیں۔ یہ واقعہ ایک صحابی البراء بن مالک خزرجی (وفات ۲۰ھ) کا ہے۔ اُن کا یہ واقعہ مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ کے زمانہ میں پیش آیا۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت کے زمانہ میں مسیلمہ کذاب اور اُس کے حامی اہل یمامہ کے ساتھ جنگ پیش آئی۔ یہ جنگ حضرت خالد کی سرداری میں ہوئی تھی۔ اس جنگ کے آخری مرحلہ میں ایسا ہوا کہ باغیوں کی یہ جماعت ایک فصیل بند باغ کے اندر داخل ہو گئی اور
‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues