Al-Risala · July 2002 · page 55

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۵۵

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۵۵

اس کے مضبوط دروازہ کو اندر سے بند کر لیا۔ اُس وقت صحابہ کی جماعت میں البراء بن مالک بھی تھے جو اپنی بہادری کے لیے مشہور تھے۔ انہوں نے صحابہ سے کہا کہ تم لوگ مجھ کو ایک ڈھال پر بٹھاؤ اور ڈھال کو نیزوں کے ذریعہ اوپر اٹھاؤ۔ اس طرح اٹھا کر مجھے دیوار کے اوپر تک پہنچا دو۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ جب وہ دیوار کے اوپر پہنچے تو وہ وہاں سے کود کر نیچے اتر گئے۔ اندر کے لوگوں نے اُن پر حملہ کیا مگر وہ مقابلہ کرتے ہوئے باغ کے دروازہ تک پہنچ گئے اور اُس کو کھولنے میں کامیاب ہو گئے۔ دروازہ کھلتے ہی صحابہ کی جماعت اندر داخل ہو گئی اور مسیلمہ کے ساتھیوں سے لڑ کر انہیں مغلوب کر لیا۔ البراء بن مالک کا یہ اقدام ایک جوکھم کا اقدام تھا۔ اس میں جان کا خطرہ تھا۔ مگر البراء بن مالک کو باغی گروہ مارنے میں کامیاب نہ ہو سکا، وہ زندہ بچ کر باہر آ گئے۔ اس واقعہ کے بعد وہ مزید آٹھ سال تک زندہ رہے اور پھر ۲۰ ھ میں اُن کی طبعی وفات ہوئی ۔ (الکامل فی التاریخ لابن اثیر ۲/ ۴۱۶ ، البدایہ والنہایہ لابن کثیر ۶/ ۲۶۸، الأعلام للزركلي ۲/ ۲۷۳)۔

ان دونوں میں شَتّانَ ما بينهما (there is a great difference between the two) کا معاملہ ہے۔ البراء بن مالک نے جو کچھ کیا وہ یہ تھا کہ انہوں نے اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال کر ایک اقدام کیا جس میں اُن کے لیے بیک وقت دونوں امکان تھا— زندہ بچنے کا بھی اور مارے جانے کا بھی۔ اس کے برعکس موجودہ زمانہ میں اپنے جسم کے ساتھ بم باندھ کر جو بم دھماکہ کیا جاتا ہے وہ یقیناً جان بوجھ کر خودکشی کرنے کا معاملہ ہے۔ اس عمل کی تکمیل خود عامل کی موت پر منحصر ہے۔ ان دونوں کے درمیان واضح طور پر نوعی فرق پایا جاتا ہے۔ مگر اس فرق کو نہ جاننے کی وجہ سے دونوں کو ایک سمجھ لیا گیا اور ایک واقعہ جو واضح طور پر خودکشی کا فعل تھا، اُس کو شہادت کا درجہ دے دیا گیا۔ یہ معرفت کے بغیر علم کی ایک مثال ہے۔ اگر آدمی کے پاس علم (بمعنی معلومات) ہو، مگر اُس کے پاس معرفت والی بصیرت نہ ہو تو وہ ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو نہیں سمجھے گا۔ وہ ایسی بات کہے گا جو اس کے اپنے نزدیک علم پر مبنی ہوگی ، حالانکہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف جہالت پر مبنی ہوگی، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues

Printed page