Al-Risala · July 2002 · page 57

دو قسمی سوچ

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۵۷

معاملہ میں اصل اہمیت منطقی انصاف بیان کرنے کی نہیں ہے بلکہ مسئلہ کے حل کی عملی تدبیر ڈھونڈھنے کی ہے۔ اس طرح کے معاملہ میں ہونے والے نقصان کی تلافی عملی تدبیر سے ہوسکتی ہے، نہ کہ منطقی تجزیہ سے۔ قرآن نے اُحد کی جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے یہی عملی طریقہ اختیار کیا ہے۔ آخرت کی عدالت میں بلاشبہ ظالموں کو اُن کا ظلم بتایا جائے گا اور اُس پر انہیں سزا دی جائے گی۔ مگر دنیا میں اس طرح کے موقع پر کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ معاملہ کا عملی حل دریافت کیا جائے تا کہ اُس کے ذریعہ اپنی شکست کو دوبارہ فتح میں تبدیل کیا جا سکے۔

دو قسمی سوچ

سوچ کی ایک قسم وہ ہے جس کو نفسیات کی اصطلاح میں ثنائی یا دو قسمی سوچ (dichotomous thinking) کہا جاتا ہے۔ یعنی چیزوں کو بلیک اینڈ وائٹ میں تقسیم کر کے سوچنا۔ یہ طریقہ اکثر اوقات ہلاکت کا باعث ہوتا ہے۔ آدمی کے پاس صرف دو معیار ہوتے ہیں، جب کہ وہاں تیسرا معیار بھی موجود ہوتا ہے۔ مگر آدمی اپنے مخصوص ذہن کی بنا پر دو صورتوں میں بندھار رہتا ہے۔ وہ تیسری صورت سے بے خبری کی بنا پر اُس کو استعمال نہیں کر پاتا، جب کہ اسی تیسری صورت میں اس کی نجات چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ مثلاً ایک فرقہ کی طرف سے اس کا مذہبی جلوس نکلتا ہے۔ وہ نعرہ لگاتا ہوا دوسرے فرقہ کے محلے سے گزرتا ہے۔ محلے کے لوگ نعرہ کو اپنے خلاف سمجھ کر اُس پر مشتعل ہو جاتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں دونوں فرقوں کے درمیان ٹکراؤ ہو جاتا ہے جو جان اور مال کے بھیانک نقصان پر ختم ہوتا ہے۔ اس مثال پر غور کیجئے۔ محلہ کے لوگ اپنے مخصوص ذہن کی بنا پر معاملہ کو صرف دو رخ سے دیکھ پاتے ہیں۔ قابل اعتراض نعرہ کو گوارا کرنا یا اس کو بند کرنا۔ چونکہ نعرہ کو گوارا کرنا اُنہیں بزدلی اور بے عزتی معلوم ہوتی ہے اور نعرہ کو بند کرنا اُنہیں ایک بہادرانہ فعل نظر آتا ہے۔ اس لیے وہ نعرہ کو بند کرنے کے لیے اقدام کرتے ہیں تا کہ اپنی مطلوب پسندیدہ چیز کو حاصل کر سکیں۔ مگر نعرہ کو برداشت نہ کرنے کا نتیجہ عملاً یہ نکلتا ہے کہ اُنہیں خونی فساد کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

اس تباہی کا سبب دو قسمی طرز فکر ہے۔ اگر محلے والے یہ جانیں کہ اُن کے لیے ایک تیسری ممکن

‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues

Printed page