Al-Risala · July 2002 · page 78

مشکل میں آسانی

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۷۸

اسی قسّم کی غلط تعمیم قرآن کے بارے میں بھی کی گئی ہے۔ قرآن سے قتال کی بعض آیتوں کو لے کر کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن جنگ و قتال کی کتاب ہے۔ حالانکہ یہ ایک کھلی ہوئی غلط تعمیم ہے۔ قرآن کی ننانوے فیصد سے زیادہ آیتیں وہ ہیں جو امن اور انسانیت جیسے مثبت موضوعات سے تعلق رکھتی ہیں۔ ایک فیصد سے بھی کم آیتیں وہ ہیں جو کھلی ہوئی جارحیت کی صورت میں دفاع کے احکام بتاتی ہیں۔ ایسی حالت میں چند آیتوں کو لے کر یہ کہنا کہ یہی قرآن کی عمومی تعلیم ہے، سراسر غلط ہے اور علمی اعتبار سے ناقابل قبول ہے۔

تعمیم کی یہ فکری بُرائی ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہے۔ لوگوں کا عام مزاج یہ ہے کہ جس آدمی سے وہ خوش ہوں گے اُس کی کچھ خوبیوں کو لے کر اُس کو مبالغہ آمیز انداز میں بیان کریں گے۔ وہ انہی چند خوبیوں کی بنیاد پر اپنے محبوب کی مکمل تصویر بنائیں گے۔ اس کے برعکس، جس آدمی سے وہ ناخوش ہوں اُس کی خوبیوں کو وہ نظر انداز کریں گے۔ وہ ڈھونڈ کر اُس کی کچھ برائیاں نکالیں گے اور ان برائیوں کو مبالغہ آمیز انداز میں بیان کر کے یہ تاثر دیں گے کہ یہی اُن کے مبغوض آدمی کی مکمل تصویر ہے۔ تعمیم کی یہ دونوں ہی صورتیں سراسر غلط ہیں۔ یہ طریقہ غیر علمی بھی ہے اور اخلاق اور انصاف کے خلاف بھی۔ جس معاشرہ میںتعمیم کا یہ طریقہ رایج ہو جائے وہاں ہر آدمی کی تصویر مصنوعی بن جائے گی۔ لوگ ایک دوسرے کے بارے میں ایسی رائیں قائم کریں گے جن کا حقیقتِ واقعہ سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔

راقم الحروف کو بھی اپنے دعوتی مشن میں اس قسم کی غلط تعمیم کا تجربہ ہوا ہے۔ مثلاً کچھ لوگ میرے بارے میں یہ مشہور کرتے ہیں کہ اُن کو تو بس ایک بات اسلام میں ملی ہے، صلح حدیبیہ۔ حالانکہ یہ سراسر بے بنیاد بات ہے۔ میری دو سو سے زیادہ کتابیں ہیں اور ہزاروں سے زیادہ مقالات و مضامین چھپ چکے ہیں۔ کوئی شخص ان میں دیکھ سکتا ہے کہ میری ان تحریروں میں صلح حدیبیہ کی بات ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ اسلام کی دوسری تعلیمات اور وقت کے مسائل کا اسلامی جواب جیسے مضامین سے میری تحریریں بھری ہوئی ہیں۔ مگر خود ساختہ تعمیم کے ذریعہ یہ غلط تاثر دیا جاتا ہے کہ مجھے تو

‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues

Printed page