Al-Risala · July 2002 · page 77

مشکل میں آسانی

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۷۷

میں ایک آسان پہلو نکل آیا۔ وہ یہ کہ اس فوجی در اندازی کا دوسرا نتیجہ یہ ہوا کہ مدعو خود داعی کی آبادیوں میں داخل ہو گیا۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ روزانہ مختلف صورتوں میں داعی اور مدعو کے درمیان اختلاط (interaction) اور بحث و گفتگو (dialogue) ہونے لگا۔ یہ جنگ ابتداء میں قتل وخون دکھائی دیتی تھی مگر بعد کے مرحلہ میں وہ اسلام کو موضوع بحث بنانے کا ذریعہ ثابت ہوئی۔ اس طرح ایک فطری نتیجہ کے طور پر مسلمانوں کی طرف سے منگولوں کے اوپر اسلامی دعوت کا عمل (process) جاری ہو گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پچاس سال کے اندر منگولوں کی اکثریت اسلام میں داخل ہوگئی____ منگولوں کے ساتھ اس جنگ میں بظاہر مسلمان ہارے تھے مگر عین اُسی وقت اسلام نے شاندار کامیابی حاصل کر لی۔ اِسی تاریخی حقیقت کو ایک مغربی مؤرخ نے ان الفاظ میں ادا کیا ہے____ مسلمانوں کے مذہب نے وہاں کامیابی حاصل کرلی جہاں ان کے ہتھیار نا کام ہو چکے تھے:

The religion of Muslims have conquered where their arms had failed. تعمیم کی غلطی سوچ کی غلطی کی ایک صورت وہ ہے جس کو تعمیم (genralisation) کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک استثنائی مثال کو لے کر اُس کو عمومی شکل دینا اور اُس سے کُلّی رائے بنانا۔ تعمیم کی غلطی اتنی زیادہ عام ہے کہ بہت کم لوگ اس سے بچے ہوئے نظر آئیں گے۔

مثلاً بائبل (نیا عہد نامہ) میں ہے کہ حضرت مسیح نے فرمایا: یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں ۔ صلح کرانے نہیں بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں:

“Donot think that I came to bring peace on earth. I did not come to bring peace but a sword.” (Matthew, 10:29)

حضرت مسیح کا یہ قول اُن کے پورے کلام میں ایک استثناء کی حیثیت رکھتا ہے۔ اُن کے زیادہ تر اقوال محبت اور اخلاق جیسی تعلیمات پر مبنی ہیں ۔ ایسی حالت میں مذکورہ قول کو لے کر یہ کہنا کہ حضرت مسیح کا مشن تلوار چلوانا تھا، ایک استثناء کو عموم کا درجہ دینا ہوگا۔ یہ ایک غلط تعمیم ہوگی جو علمی اعتبار سے قابل قبول نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues

Printed page