سبق لینا، نہ کہ سبق سکھانا
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۸۰
دوران انہوں نے بتایا کہ وہ جس مدرسے میں پڑھتے ہیں اُن کے ناظم نے اُن کے دوسرے طالب علموں کے سر کے بال منڈوا دیئے ہیں۔ ناظم صاحب نے وجہ یہ بتائی کہ مجھ کو بڑے بال اچھے نہیں لگتے۔ میں نے پوچھا کہ جن طلبہ کے سر کے بال منڈوائے گئے انہوں نے کچھ احتجاج، وغیرہ کیا۔ مذکورہ طالب علم نے بتایا کہ نہیں۔ طلبہ نے اس کو بہت زیادہ برا مانا لیکن وہ اس پر خاموش رہے۔ اس لیے کہ اگر وہ احتجاج کرتے تو مدرسے سے ان کا اخراج کر دیا جاتا۔
اصولی اعتبار سے دیکھا جائے تو ناظم صاحب کا طلبہ کے سر کے بال منڈوانا طلبہ کے لیے ایک اشتعال انگیز واقعہ تھا۔ مگر ان طلبہ نے ایسا نہیں کیا کہ وہ بال منڈوانے کے معاملہ کو اُصولی اور نظری معیار پر جانچیں ۔ بلکہ وہ سب اس معاملہ میں عملی (پریکٹیکل ) بن گئے۔ ایک معاملہ جو نظری بنیاد پر قابلِ قبول نہ تھا اُس کو انہوں نے عملی بنیاد پر قبول کر لیا۔
غور کیجیے تو ہر آدمی اپنی ذاتی زندگی میں یہی کرتا ہے۔ وہ معاملہ کے نظری پہلو پر اصرار نہ کرتے ہوئے بھی عملی بنیاد پر اُس کو ماننے کے لیے راضی ہو جاتا ہے۔ مگر انہی افراد کا حال یہ ہے کہ جب معاملہ قومی اور ملّی ہو تو وہ فوراً اُس کو نظری اور اصولی اعتبار سے جانچنا شروع کر دیتے ہیں۔ وہ ایسا نہیں کرتے کہ عملی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے مسئلہ کو ختم کر دیں۔
لوگوں میں یہ تضاد کیوں ہے کہ وہ اپنے انفرادی معاملہ میں حقیقت پسند ہوتے ہیں اور جب ملّت کا معاملہ ہو تو وہ غیر حقیقت پسند بن جاتے ہیں۔ اس کا سبب لوگوں میں ذہنی بیداری کا نہ ہونا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ذاتی معاملہ میں آدمی اُس کے نفع اور نقصان کو خود بھگت رہا ہوتا ہے، اس لیے وہ کسی سوچ کے بغیر صرف ذاتی تجربہ کی بنیاد پر صحیح رائے تک پہنچ جاتا ہے۔ ذاتی معاملہ میں رائے قائم کرنے کے لیے سوچنے اور فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ذاتی تجربہ کی تلخی اور شیرینی اُس کا رویہ متعین کرنے کے لیے کافی ہو جاتی ہے۔ یہ عین وہی معاملہ ہے جو ہر حیوان کے ساتھ پیش آتا ہے۔ ہر حیوان اپنے ذاتی معاملہ میں جان لیتا ہے کہ اُسے کیا کرنا چاہئے ۔ مگر دوسرے کے معاملہ میں وہ اُس کو جان نہیں پاتا۔ کیوں کہ دوسرے کے معاملہ کو جاننے کے لیے فہم درکار ہے جو کہ حیوان میں نہیں ہوتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues