Al-Risala · July 2002 · page 81

اقدام نتیجہ خیز ہونا چاہئے

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۸۱

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اُن کے درمیان کوئی ایسی تحریک نہیں اُٹھی جو اُن کے اندر ذہنی بیداری پیدا کرے۔ جو فن تفکیر (art of thinking) کے اصولوں کی روشنی میں اُن کی ذہنی تربیت کرے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کی مسلم نسلیں فکری ارتقاء سے محروم ہیں ۔ لوگ بس حیوانی سطح پر جی رہے ہیں، ذہنی ارتقاء یا فکری عمل (thinking process) کی اُنہیں خبر ہی نہیں۔

اقدام نتیجہ خیز ہونا چاہئے

بنی اسرائیل کے اندر پیش آنے والے واقعات میں سے ایک واقعہ وہ ہے جو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے زمانہ میں پیش آیا۔ قرآن کے مطابق، ایسا ہوا کہ حضرت موسیٰ اپنی قوم کے اوپر حضرت ہارون کو ذمہ دار بنا کر کچھ دنوں کے لئے کوہ طور پر چلے گئے۔ اس دوران بنی اسرائیل نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ہارون نے انہیں روکا مگر قوم کی طرف سے شدت دیکھ کر وہ اس معاملہ میں خاموش ہوگئے۔ مگر جب حضرت موسیٰ واپس آئے تو انہوں نے اس مصنوعی بچھڑے کو توڑ کر پھینک دیا اور مجرمین کو سزادی (الاعراف، طہ) یہاں یہ سوچنے کی بات ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے عمل میں یہ فرق کیوں تھا۔ کیا وجہ ہے کہ حضرت ہارون نے کھلے ہوئے شرک کے ایک معاملہ کو عملاً برداشت کیا جب کہ حضرت موسیٰ نے اس کو توڑ کر اور جلا کر ختم کردیا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ہارون نے غور و فکر کے بعد یہ جانا کہ اگر وہ عملی اقدام کرتے ہیں تو ایک گروہ ان کا ساتھ دے گا اور دوسرا گروہ بچھڑا پوجنے والوں کے ساتھ رہے گا۔ اس طرح قوم دو گروہوں میں بٹ کر باہمی لڑائی شروع کردے گی، مگر حضرت موسیٰ کے عمل کی صورت میں یہ اندیشہ نہ تھا۔ حضرت موسیٰ کو قوم میں غالب حیثیت حاصل تھی ۔ اس بنا پر یہ ممکن تھا کہ وہ قوم میں جس فیصلہ کو چاہیں نافذ کریں۔

اس واقعہ پر غور کرنے کے بعد یہ اصول ملتا ہے کہ عمل کو ہمیشہ نتیجہ رخی (result-oriented)

‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues

Printed page