وقت کے پیچھے سوچنا
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲
کے پیچھے سوچنا ہے جو کہ عملی طور پر ناممکن ہے۔ ایک اُردو شاعر نے درست طور پر کہا ہے کہ : گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ عربوں کے لیے فلسطین کے معاملہ میں جو چیز ۱۹۱۷ء میں ممکن تھی وہ ۱۹۴۸ء میں ناممکن ہو چکی تھی ۔ اسی طرح اُن کے لیے جو چیز ۱۹۴۸ء میں ممکن تھی وہ اُن کے لیے ۱۹۶۷ء میں ممکن نہ رہی تھی۔ اسی طرح اُن کے لیے جو چیز ۱۹۶۷ء میں ممکن تھی وہ اب ۲۰۰۲ء میں اُن کے لیے ممکن نہیں ہے۔ یہ حقیقت خواہ کتنی ہی تلخ ہو مگر وہ ایک تاریخی حقیقت ہے، اور تاریخ کو بدلنا کسی کے لیے ممکن نہیں، نہ عربوں کے لیے اور نہ کسی دوسرے کے لیے۔
۲۰۰۲ء میں عربوں کے لیے فلسطین کے معاملہ میں جو چیز ممکن ہے وہ صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ غزه اوراریحا کی صورت میں اُن کو جو چیز ملی ہے اُس کو قبول کر لیں۔ وہ اس حاصل شدہ خطے پر اپنے مستقبل کی تعمیر کریں۔ مگر بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اپنے پُر جوش رہنماؤں کی غیر حقیقت پسندانہ رہنمائی کے نتیجہ میں انہوں نے اس حاصل شدہ ٹکڑے کو بھی اپنے لیے مشتبہ بنا لیا ہے۔ عربوں کو جاننا چاہئے کہ وہ حماس اور انتفاضہ جیسی پر تشدد تحریکوں کے بل پر کوئی چیز حاصل نہیں کر سکتے۔ منفی عمل سے کبھی کوئی مثبت نتیجہ بر آمد نہیں ہوتا۔ حماس اور انتفاضہ جیسی تحریکیں حقیقت کے اعتبار سے تحریکیں نہیں ہیں، وہ صرف جذباتی رد عمل کا مظہر ہیں۔ اور حقائق کی اس دنیا میں سوچے سمجھے عمل کے ذریعہ کوئی نتیجہ نکلتا ہے، نہ کہ جذباتی اُبال کے ذریعہ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ماضی کی بنیاد پر کبھی حال کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ حال کا فیصلہ ہمیشہ حال کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ یہ ایک نا قابلِ تنسیخ تاریخی قانون ہے۔ اس میں کوئی استثناء کبھی ممکن نہیں، نہ ایک قوم کے لیے اور نہ کسی دوسری قوم کے لیے۔ بُرائی کی جڑ اکثر لیڈر سوچ کی اس غلطی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ اُن کے زمانہ میں جو لوگ سیاسی اقتدار پر قابض ہیں وہی تمام برائیوں کی جڑ ہیں۔ اگر اُن کو اقتدار سے ہٹا دیا جائے تو تمام بُرائی ختم ہو جائے گی۔ یہ سوچ اپنے تجربہ میں بار بار غلط ثابت ہوئی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues