وقت کے پیچھے سوچنا
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲
کا نام ہے مگر وہ لوگ جو مختلف مقامات پر حق اور انصاف کے اصول کے نام پر جنگ چھیڑے ہوئے ہیں وہ اس تعریف کو نہیں مانتے۔ اُن کا کہنا ہے کہ امن برائے امن کوئی چیز نہیں۔ اُن کے نزدیک امن وہ ہے جو امن مع انصاف (peace with justice) ہو، نہ کہ امن بغیر انصاف (peace whithout justice) یہ سوچ ایک غیر حقیقی سوچ ہے۔ انصاف امن کا نتیجہ نہیں ہے۔ انصاف خود طالبِ انصاف کے عمل کا نتیجہ ہے۔ امن کے ذریعہ وہ معتدل حالات پیدا ہوتے ہیں جو مواقع کے استعمال کو ممکن بناتے ہیں۔ جنگ کی حالت مواقع (opportunities) کے استعمال میں رکاوٹ ہے۔ امن کی حالت قائم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مواقع کی راہ سے یہ رکاوٹیں ختم ہو جائیں تاکہ اُن کو استعمال کر کے اپنا مطلوب حق یا اپنا مطلوب انصاف حاصل کیا جاسکے۔
اگر آدمی کی سوچ یہ ہو کہ وہ فریق ثانی سے امن کا معاملہ کرنے پر صرف اُس وقت راضی ہوگا جب کہ امن کے ساتھ ساتھ اُس کو انصاف مل رہا ہو، تو آدمی کو نہ کبھی امن ملے گا اور نہ کبھی انصاف۔ ایسا امن اس دنیا میں کسی کے لیے ممکن ہی نہیں۔ یہ سوچ ایک غیر فطری چیز ہے جو اس دنیا میں کبھی نتیجہ خیز ہونے والی نہیں۔ صحیح سوچ یہ ہے کہ امن کو مواقع عمل سے جوڑا جائے، نہ کہ حصولِ انصاف سے۔ امن کو فریق ثانی سے معاہدہ کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے مگر انصاف یا حق کسی کو صرف اپنے عمل سے ملتا ہے، نہ کسی اور کے دینے سے۔
وقت کے پیچھے سوچنا
مارچ ۲۰۰۲ء میں مسئلہ فلسطین کے حل کے بارے میں عرب ملکوں کے درمیان ایک نیا نظریہ ابھرا۔ وہ یہ کہ اسرائیل اگر ۱۹۶۷ کی حد پر واپس چلا جائے تو عرب ممالک اسرائیل کو باقاعدہ طور پر قبول کر لیں گے۔ ایک تعلیم یافتہ عرب نے ایک یہودی سے بات کرتے ہوئے اُس کے سامنے یہ تجویز رکھی۔ یہودی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ عزیز پڑوسی، تم نے بہت دیر کر دی: Dear Neighboure, you are too late. عرب حضرات کی مذکورہ تجویز بہت اچھی ہے مگر یقینی طور پر وہ قابل عمل نہیں۔ یہ دراصل وقت
‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues