Good news is no news.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲
کسی ملک یا سماج کی بُری خبروں کو نمایاں کرے۔ اور اچھی خبروں کو قابل تذکرہ نہ سمجھے۔ میڈیا کی اس روش نے عالمی سطح پر انسانی سوچ کو منفی بنا دیا ہے۔
اس معاملے کی ایک دلچسپ مثال یہاں نقل کی جاتی ہے۔ میں اکثر بی بی سی لندن کی نشریات کو سنتا ہوں۔ ایک دن میں بی بی سی لندن کا ہندی پروگرام سن رہا تھا۔ اپنے طریقہ کے مطابق ، انہوں نے آخر میں کچھ خطوط پڑھ کر سنائے۔ ایک خط ماریشش میں مقیم ایک ہندو کا تھا۔ اُس نے اپنے خط میں یہ شکایت کی تھی کہ آپ ہندی بولنے والے علاقہ کی خبریں نشر کرتے ہیں، ماریشش میں بھی بہت سے لوگ ہندی بولتے ہیں مگر آپ کبھی ماریشش کی کوئی خبر نہیں دیتے۔ بی بی سی لندن کے اناؤنسر نے ہنستے ہوئے اس خط کا جواب دیا۔ اُس نے کہا کہ میڈیا تو بُری خبروں کی رپورٹنگ کا نام ہے۔ آپ کے ملک میں سب اچھی خبریں ہوتی ہیں، اور اچھی خبر میڈیا کے نزدیک کوئی خبر نہیں۔
Good news is no news.
یہ فطرت کے نظام کے خلاف ہے کہ دنیا میں صرف برائی ہی برائی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ خود نظام فطرت کے تحت دنیا میں اگر ایک فیصد برائی ہوتی ہے تو عین اُسی وقت ننانوے فیصد اچھائی موجود رہتی ہے، خواہ براہ راست طور پر یا بالواسطہ طور پر۔ مگر میڈیا کبھی لوگوں کو اس واقعہ کی خبر نہیں دیتا کہ ہم جن برائیوں کی رپورٹ کر رہے ہیں وہ پورے سماج کا ایک فیصد حصہ ہے، نہ کہ کل حصہ۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے برصغیر ہند کے اخبارات انگریزوں کے بارے میں صرف اُن کے ”ظلم“ کی خبریں دیتے تھے، انگریزی نظام کے مثبت پہلو اخباروں میں جگہ نہیں پاتے تھے۔ چنانچہ تمام ہندوستانیوں کو انگریزوں سے نفرت ہوگئی۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے مسلم لیگ سے متاثر اخبارات یہاں کے ہندوؤں کے مثبت پہلوؤں کو نظر انداز کرتے تھے اور اُن کے بارے میں صرف منفی باتیں چھاپتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ برصغیر ہند کے مسلمانوں کی اکثریت یہاں کے ہندوؤں کے بارے میں بدظن ہوگئی۔ اسی طرح آج کل تمام دنیا کا مسلم میڈیا امریکہ کے مثبت پہلوؤں کا کوئی تذکرہ نہیں کرتا، وہ اُس کے بارے میں صرف بُری باتوں کو مسلمانوں تک پہنچاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ساری دنیا کے
‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues