Al-Risala · July 2002 · page

الٹی سوچ

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲

مسلمان امریکہ سے متنفر ہو گئے ہیں اور یہ سمجھنے لگے ہیں کہ امریکہ اسلام کا دشمن نمبر ایک ہے۔ میڈیا کی حیثیت ایک انڈسٹری کی ہے۔ میڈیا کے اپنے تجارتی مصالح کی بنا پر یہ ممکن نہیں کہ وہ یک طرفہ رپورٹنگ کا طریقہ ختم کرے اور دو طرفہ رپورٹنگ کا طریقہ اپنے یہاں رائج کرے ۔ اس مسئلہ کا عملی حل میڈیا کی شکایت کرنا نہیں ہے بلکہ خود اپنے ذہن کی اصلاح کرنا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم لوگوں کے اندر شعوری بیداری پیدا کریں۔ ہم یہ کوشش کریں کہ لوگوں کے اندر تفکیر و تدبّر کی صحیح صلاحیت پیدا ہوتا کہ وہ میڈیا کی ناقص رپورٹنگ سے متاثر نہ ہوں، بلکہ خود تجزیہ کر کے معاملات کے بارے میں درست رائے قائم کریں۔

اس تجزیہ کا طریقہ یہ ہے کہ مثلاً جب آپ مسلم اخباروں میں یا مسلم رہنماؤں کی تقریروں میں یہ سنیں کہ امریکہ اسلام کا دشمن ہے تو آپ اُس کا تجزیہ کریں۔ آپ یہ سوچیں کہ امریکہ جب ایک دشمن ملک ہے تو چھ ملین سے زیادہ مسلمان وہاں جاکر کیسے آرام کے ساتھ رہ رہے ہیں، حتّیٰ کہ اخبار کے ایڈیٹر یا اسٹیج کے مقرر کے خود اپنے رشتہ دار بھی۔ اسی طرح یہ کہ اگر امریکہ اسلام دشمن ہے تو وہاں ہزاروں کی تعداد میں اسلامی ادارے کیوں قائم ہیں اور آزادی کے ساتھ چل رہے ہیں۔ کیوں ایسا ہے کہ امریکہ میں ایسے شاندار اجتماعات ہوتے ہیں جو مُسلم ملکوں میں بھی نہیں ہوتے۔ اسی طرح یہ کہ اگر امریکہ اپنی اسلام دشمنی کی بنا پر فلسطین میں یہودیوں کی مدد کرتا ہے تو وہی امریکہ اسلامی ملک پاکستان کی مسلسل طور پر کیوں مدد کر رہا ہے، وغیرہ۔

جب آپ مسلم اخباروں اور مسلم رہنماؤں کی باتوں کا اس طرح تجزیہ کریں گے تو آپ یقینی طور پر جان لیں گے کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ میڈیا کی فراہم کردہ ایک فیصد خبروں پر انحصار نہ کیجیے بلکہ اُس کے ساتھ بقیہ ننانوے فیصد خبروں کو بھی شامل کر کے دیکھیے اور پھر آپ کبھی رائے قائم کرنے کی غلطی میں مبتلا نہیں ہوں گے۔

الٹی سوچ

کوئی فرد یا گروہ تشدد کیوں کرتا ہے، اپنے کسی حق کے حصول کے لیے۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے

‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues

Printed page