اتحاد کا راز
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲
موجودہ دنیا میں اصلاح کا حقیقی فارمولا صرف وہ ہے جو انسانی فطرت کے مطابق ہو۔ جو فارمولا فطرت سے مطابقت نہ رکھتا ہو وہ قابل عمل بھی نہیں۔ اور جو چیز قابل عمل نہیں وہ مفید بھی نہیں۔ عُسر کے ساتھ یُسر موجودہ دنیا کا نظام اُمید کے اصول پر قائم ہے۔ یہاں ہر رات کے بعد صبح آتی ہے۔ یہاں ہر عسر کے ساتھ ہمیشہ یُسر موجود رہتا ہے۔ یہاں ہر مسئلہ کے ساتھ مواقع کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ ہر پرابلم کے ساتھ سلوشن کا موجود ہونا اس دنیا کا ایک اٹل اصول ہے جس میں کبھی فرق نہیں آتا۔ اگر کبھی ایسا ہو کہ مسئلہ حل ہوتا ہوا نظر نہ آئے تو سمجھنا چاہئے کہ ہم جو فارمولا استعمال کر رہے ہیں وہ صورت حال کے مطابق نہیں۔ ایسی حالت میں نئے فارمولے کو استعمال کرنا چاہئے۔ یہی سنت رسول ہے۔ جہاں جنگ کا فارمولا کارآمد نہ ہو وہاں امن کا فارمولا استعمال کیجئے۔ جہاں براہ راست مقابلہ موثر نہ ہو وہاں بالواسطہ مقابلہ کا طریقہ اختیار کیجئے، وغیرہ۔ کامیاب ازدواجی زندگی شوہر اور بیوی کے درمیان بہتر تعلق کی تعلیم دیتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وعاشروهن بالمعروف فإن كرهتموهن فعسى أن تكرهوا شيئاً و يجعل الله فيه خيراً كثيراً (النساء ١٩) یعنی ان کے ساتھ اچھی طرح گزر بسر کرو۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند نہ ہو مگر اللہ نے اس میں تمہارے لئے بہت بڑی بھلائی رکھ دی ہو۔ یہ بات اپنی حقیقت کے اعتبار سے شوہر اور بیوی دونوں ہی کے لیے ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حسن معاشرت یا بہتر ازدواجی زندگی کا انحصار اس پر نہیں ہے کہ شوہر کو بالکل اپنی پسند کی بیوی مل جائے یا بیوی کو بالکل اپنی پسند کے مطابق شوہر مل جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ قانون فطرت کے مطابق، ایسا ہونا ممکن نہیں۔ کامیاب ازدواجی زندگی کا راز پسند کے خلاف زوج(spouse) کے ساتھ موافقت(adjustment) کرنا ہے، ناپسندیدگی میں پسند کا پہلو تلاش کر لینا ہے۔ مشہور سنگر محمد رفیع کا ایک گانا اتنا مقبول ہوا کہ وہ ہر ماں باپ کے دل کی دھڑکن بن
‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues