Al-Risala · July 2002 · page 46

اتحاد کا راز

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۲، صفحہ ۴۶

یہ بچوں کے بارے میں سوچنے کا صحیح طریقہ نہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے صحیح فارمولا یہ ہے کہ اپنے لیے قناعت، اور بچوں کے لیے ترقی۔ یعنی حالات کے اعتبار سے آپ جس معاشی کامیابی تک پہنچے ہیں اُس پر قناعت کرتے ہوئے زندگی گزاریے۔ اس معاملہ کو بچوں کے اوپر چھوڑ دیجیے کہ وہ وسیع دنیا میں ہاتھ پاؤں ماریں اور اپنی محنت کے ذریعہ زیادہ ترقی حاصل کریں۔ آپ بچوں کے لیے صرف ابتدائی زینہ بننے پر قانع ہو جائیے۔ اگلے زینوں پر چڑھنا اور اوپر کی منزل تک پہنچنا یہ بچوں کے لیے چھوڑ دیجیے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی باپ کی طرف سے اپنے بچوں کے لیے سب سے بہتر عطیہ یہ نہیں ہے کہ وہ اُن کے لیے دولت کا ڈھیر چھوڑے۔ اس کے برعکس زیادہ بہتر عطیہ یہ ہے کہ وہ بچوں کو ایسے حالات دے سکے جو اُنہیں عمل پر اُبھارنے والے ہوں۔ بچوں کے اندر محنت کا جذبہ ہونا سب سے بڑا سرمایہ ہے، نہ کہ باپ کی طرف سے ملی ہوئی دولت۔ محنت کے بغیر جو دولت ملے وہ کوئی اچھی چیز نہیں۔ اس قسم کی دولت وہ چیز ہے جس کو ایزی منی (easy money) کہا جاتا ہے۔ اور یہ ایک ثابت شدہ واقعہ ہے کہ ایزی منی اُس کے پانے والے کو فائدہ کم پہنچاتی ہے اور نقصان زیادہ۔

اتحاد کا راز

کسی گروہ کے درمیان اتحاد کیسے قائم ہو۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ اختلاف کو مٹاؤ تا کہ باہمی اتحاد قائم ہو۔ اس نظریہ کے پیچھے جو سوچ ہے وہ یہ ہے کہ ــــــ جب اختلاف نہ ہوگا تو اپنے آپ اتحاد قائم ہو جائے گا۔ اس سوچ کے مطابق، اختلاف ہے تو اتحاد نہیں، اور جہاں اتحاد ہے وہاں اختلاف نہیں۔ یہ سوچ سراسر بے بنیاد ہے۔ اس طرح کے فارمولے کے ذریعہ دنیا میں کبھی اتحاد قائم ہونے والا نہیں۔ اختلاف ایک فطری چیز ہے۔ وہ ہر انسان کی فطرت کا ایک لازمی حصہ ہے۔ ایسی حالت میں اختلاف کو مٹانا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ اس مقصد کے لیے صحیح اور قابل عمل فارمولا یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا نام اتحاد ہے، نہ کہ اختلاف کے بغیر متحد ہونے کا۔ کیوں کہ موجودہ دنیا میں ایسا ہونا ممکن ہی نہیں کہ لوگوں کے اختلافات کو اس طرح بلڈ وز کر دیا جائے کہ اُن کا وجود ہی باقی نہ رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2002 All issues

Printed page