Al-Risala · August 2002 · page

جودھ پور کا سفر

الرسالہ، اگست ۲۰۰۲

جودھ پور کا سفر

جودھ پور (راجستھان) میں پانی کے مسئلہ پر ۱۰۔ ۱۱ مئی ۲۰۰۲ء کو ایک سمینل ہوا۔ اس کا عنوان تھا سر و دھرم جل سمینلن۔ اس سمینلن کا اہتمام ترُن بھارت سنگھ اور جل بھاگیرتھی فاؤنڈیشن دونوں نے مل کر کیا تھا۔ جودھ پور کے مہاراجہ گج سنگھ نے اس سمینلن کا افتتاح کیا اور میزبانی کے فرائض انجام دیئے۔

مجھے اس سمینلن میں شرکت کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ اُس وقت میں سفر کرنے کے قابل نہ تھا۔ میں نے کہا کہ میں صرف اس صورت میں آ سکتا ہوں جب کہ آپ کا کوئی شخص مجھ کو میرے گھر سے پک اپ کرے اور واپسی میں مجھ کو میرے گھر پر ڈراپ کرے۔ انہوں نے فوراً یہ صورت منظور کر لی اور مسٹر بابو لال شرما (گاندھی پیس فاؤنڈیشن) کے پاس دو ریٹرن ٹکٹ بھیج دیے تا کہ وہ مجھ کو میرے گھر سے لے جائیں اور واپسی میں دوبارہ مجھے میرے گھر تک پہنچا دیں۔

سفر ملکی ہو یا غیر ملکی، وہ ہمیشہ میرے لیے غیر مطلوب چیز کی حیثیت رکھتا ہے۔ میں ہر سفر میں بادل ناخواستہ جاتا ہوں اور جلد سے جلد واپس آنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ سفر کے غیر معمولی فائدے ہیں_ نئے مقامات کو دیکھنا، نئے لوگوں سے ملنا، نئے قسم کے واقعات کا پیش آنا، نئی نئی معلومات کا حصول، غرض سفر اپنے اندر بہت سے افادی پہلو رکھتا ہے۔ کتابی مطالعہ آدمی کو بہت کچھ دیتا ہے مگر سفروں کے ذریعہ آدمی کو جو تجربات حاصل ہوتے ہیں وہ لائبریری میں بیٹھ کر کتابوں کے مطالعہ کے ذریعہ حاصل نہیں ہو سکتے۔

بہت سے سفروں کو چھوڑنے کے باوجود اب تک مجھے تقریباً ڈیڑھ سو بار ہوائی جہاز کا سفر پیش آیا ہے۔ جہاں تک دوسرے سفروں کا تعلق ہے، وہ اتنے زیادہ ہیں کہ اُن کی تعداد بتانا مشکل ہے۔ میں جب بھی سفر کرتا ہوں، ہمیشہ کسی کا نفرنس کے دعوت نامہ کے تحت کرتا ہوں۔ دورہ کی قسم کا سفر میرے ذوق کے مطابق نہیں اور نہ میں نے کبھی دورہ کے انداز کا کوئی سفر کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues

Printed page