جودھ پور کا سفر
الرسالہ، اگست ۲۰۰۲
۱۰ مئی ۲۰۰۲ء کی صبح کو ساڑھے پانچ بجے مسٹر بابو لال شرما کے ساتھ روانگی ہوئی۔ ہماری گاڑی دہلی ایئر پورٹ کے قریب پہنچ چکی تھی کہ پیچھے سے ایک زبردست جھٹکا سنائی دیا۔ گاڑی رک گئی، معلوم ہوا کہ ایک ٹیکسی نے پیچھے سے ٹکر ماردی۔ ٹیکسی ڈرائیور سے پوچھا گیا تو اس نے نہایت اطمینان کے ساتھ جواب دیا کہ بریک نہیں لگی۔ ڈرائیور کے نزدیک اُس کا یہ عذر کافی تھا۔ حالانکہ اس کے اس جواب کے باوجود یہ سوال بدستور اپنی جگہ قائم تھا کہ جب تمہارا بریک ٹھیک نہیں ہے تو اپنی گاڑی سڑک پر کیوں دوڑاتے ہو۔
لوگ اکثر اپنے ذہن کے مطابق ، ایک جواب دے کر مطمئن ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ اُن کا جواب صرف کچھ غیر متعلق الفاظ کا مجموعہ ہوتا ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں اصل مسئلہ کا کوئی جواب۔ ہمارا سفر جٹ ایرویز کے ذریعہ ہونے والا تھا۔ دہلی ایئرپورٹ پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ فلائٹ ساڑھے تین گھنٹہ لیٹ ہے۔ یہ خبر میرے لیے ایک حادثہ سے کم نہ تھی۔ مگر جلد ہی وقت کا ایک اچھا استعمال مل گیا۔ میں کچھ ہم سفروں کے ساتھ بات چیت میں مشغول ہوگیا۔ اور پھر یہ وقت آسانی کے ساتھ گزر گیا۔
میں ایئرپورٹ کی انتظار گاہ میں بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک ایک صاحب ایک خاتون کے ساتھ وہاں آکر میرے سامنے بیٹھ گئے۔ وہ کشمیری مسلمان تھے۔ خاتون کی گود میں ایک بچہ تھا۔ آنے والا مسافر میرے لیے اجنبی تھا۔ اُس نے السلام علیکم کے بعد کہا: حضرت، آپ کوئی بزرگ معلوم ہوتے ہیں۔ میرے بچے کے لیے دعا کیجئے، اللہ آپ کی دعا کو قبول فرمائے گا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنا دوسالہ بچہ میرے سامنے کر دیا جو پیدائش کے وقت سے ہی کسی نامعلوم بیماری میں مبتلا تھا۔ وہ اس کے علاج کے لیے دہلی آئے تھے۔ ڈاکٹر بچہ کے مرض کی تشخیص نہ کر سکے اس لیے اب وہ واپس ہو کر سری نگر جا رہے تھے۔ میں نے بچہ کی صحت کے لیے دعا کی۔ دعا ایک اعتبار سے عبادت ہے اور دوسری اعتبار سے وہ تدبیر ہے۔
پچھلے دنوں میری ملاقات دہلی میں ایک صاحب سے ہوئی۔ اُن کا تعلق ایک یونیورسٹی سے تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2002 All issues