Al-Risala · September 2002 · page 2

نمازِ استسقاء

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۲

نمازِ استسقاء

بارش کا موسم گزرتا جا رہا ہے اور بارش نہیں ہو رہی ہے۔ یہ ایک بے حد سنگین صورت حال ہے۔ پانی ہماری ضرورتوں میں سے سب سے اہم ضرورت ہے۔ زندگی کی تمام ضرورتیں پانی سے وابستہ ہیں۔ اس وقت ملک کے بیشتر حصوں میں بارش کے نہ ہونے یا کم ہونے کی وجہ سے قحط اور سوکھے کی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔ تمام لوگ سخت پریشان ہیں۔

یہ صورت حال خدا کا عذاب نہیں ہے، یہ خدا کی تنبیہ ہے۔ تنبیہ اس لئے آتی ہے تا کہ انسان دوبارہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوں۔ لوگ دوبارہ اپنی زندگیوں کو درست کریں۔ وہ سرکشی کی زندگی کو چھوڑ کر اطاعت کی زندگی اختیار کریں۔

اس طرح کے قحط اور سوکھے کے لئے اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں اپنے گھروں سے نکل کر باہر اکٹھا ہوں اور دو رکعت نماز پڑھ کر بارش کے لئے دعا کریں۔ اس طرح کی نماز کو شریعت میں صلوٰۃ الاستسقاء یا نمازِ استسقاء کہا گیا ہے۔ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ مسلمان ملک کے مختلف مقامات پر جمع ہو کر استسقاء کی نماز پڑھیں تا کہ اللہ کی رحمت متوجہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اوپر بارش بھیجے اور ہماری زمین کو سیراب فرمائے۔

حدیث کی کتابوں میں کثرت سے استسقاء کی حدیثیں آئی ہیں۔ مثلاً صحیح البخاری میں کتاب الاستسقاء کے تحت بتایا گیا ہے کہ عرب میں سوکھا پڑا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت صلوٰۃ الاستسقاء پڑھ کر دعا فرمائی۔ نماز سے پہلے آسمان میں بادل کا کوئی نشان نہ تھا۔ مگر نماز کے بعد آسمان میں بادل آگئے اور اتنی بارش ہوئی کہ لوگ سیراب ہو گئے۔

تاریخ کے ہر دور میں اہل اسلام استسقاء کی نمازیں پڑھتے رہے ہیں۔ واقعات بتاتے ہیں کہ جب بھی استسقاء کی نماز پڑھی گئی اس کے بعد ہی بارش کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ استسقاء کی نماز اسلام میں ایک مسلمہ عبادت ہے اور یہ ایک ایسی عبادت ہے جس کا اجر فوری بارش کی

‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues

Printed page