Al-Risala · September 2002 · page 3

نمازِ استسقاء

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۳

صورت میں اسی دنیا میں شع ہو جاتا ہے۔

اس سلسلہ میں تاریخ میں بعض بڑے عجیب واقعات نقل کئے گئے ہیں۔ مثلاً مؤرخ ابن اثیر نے اپنی کتاب ’’الكامل فی التاريخ‘‘ میں ایک واقعہ لکھا ہے جو نہایت سبق آموز ہے۔ اندلس کے سلطان عبد الرحمن الناصر کے زمانہ میں وہاں قحط پڑا۔ پانی کی کمی کی وجہ سے لوگ بے حد پریشان ہو گئے ۔ اس کے بعد لوگ اپنے گھروں سے نکلے تا کہ میدان میں اکٹھا ہو کر استسقاء کی نماز پڑھیں۔ اس وقت اندلس میں ایک بزرگ اور عالم رہتے تھے جن کا نام قاضی منذر بن سعید البلوطی (وفات ۳۵۵ھ) تھا۔ سلطان نے اپنے ایک آدمی کو قاضی منذر کے پاس بھیجا اور کہلا یا کہ قاضی منذر بھی میدان میں آکر لوگوں کے ساتھ استسقاء کی نماز پڑھیں۔ قاضی منذر نے سلطان کے آدمی سے کہا کہ سلطان نے میرے پاس یہ پیغام بھیجا ہے اور خود سلطان کیا کر رہے ہیں۔ آدمی نے کہا کہ میں نے سلطان کو آج سے زیادہ کبھی اللہ سے ڈرنے والا نہیں دیکھا۔ سلطان نے شاہی کپڑے اتار کر معمولی کپڑا پہن لیا ہے اور تخت سے اتر کر زمین پر سجدے میں گر پڑے ہیں اور رو رو کر یہ دعا کر رہے ہیں کہ اے اللہ میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے کیا تو میرے گناہوں کی وجہ سے عام لوگوں کو سزا دے گا۔ سلطان کے آدمی نے جب یہ خبر بتائی تو قاضی منذر نے کہا کہ اے شخص بارش کے ساتھ واپس جا کیوں کہ اللہ نے ہمارے لئے بارش کا حکم دے دیا ہے۔ جب دنیا کا بادشاہ عاجزی کرتا ہے تو آسمان کا بادشاہ ضرور رحم فرماتا ہے (إذا خشع جبار الأرض رحم السماء) جلد ۸، ۶۷۵ استسقاء کی نماز بلاشبہ بارش کی ایک کلید ہے جو اللہ اور رسول نے ہمیں عطا فرمائی ہے۔ اس سلسلہ میں میں اپنا ایک ذاتی تجربہ یہاں نقل کروں گا۔ غالباً ۱۹۴۰ کی بات ہے۔ اعظم گڑھ کے علاقہ میں سخت خشک سالی ہوئی ۔ برسات کا موسم گزرتا جا رہا تھا۔ کسان روزانہ صبح اٹھتے ہی آسمان کی طرف دیکھتے تھے۔ مگر بادل کا ایک ٹکڑا بھی کہیں نظر نہ آتا تھا۔ آخر کار جب مایوسی حد کو پہنچ گئی تو یہ تحریک ہوئی کہ استسقاء کی نماز پڑھی جائے۔ مدرسۃ الاصلاح سرائے میر سے تقریباً دو کلو میٹر دور ایک میدان میں مدرسہ کے طلبہ اور اساتذہ اور اطراف کی بستیوں کے مسلمان جمع ہوئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues

Printed page