نمازِ استسقاء
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۴
مرحوم مولانامحمد سعید صاحب جو اس وقت مدرسۃ الاصلاح میں استاذ تھے اور جن سے میں نے حدیث پڑھی تھی، انہوں نے استسقاء کی نماز پڑھائی اور آخر میں بارش کے لئے دعا کی۔ مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے، ہم لوگ سخت چلچلاتی دھوپ میں سفر کر کے وہاں پہنچے تھے اور اس حال میں نماز ادا کی تھی کہ جسم پسینہ سے شرابور ہو رہا تھا۔ مگر نماز سے فارغ ہو کر جب ہم لوگ واپس ہوئے تو راستہ ہی میں بارش شروع ہو گئی۔ کچھ لوگوں نے درختوں کے نیچے پناہ لی اور کچھ بھیگتے ہوئے اپنے گھروں کو اس میں کوئی شک نہیں کہ آج ملک میں بڑے پیمانہ پر سوکھے کے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ میری طرح بہت سے دردمند اللہ کے بندے ہوں گے جو اپنی انفرادی عبادتوں میں بارش کے لئے دعا کر رہے ہوں گے۔ مگر جب مصیبت اجتماعی ہو تو اس وقت اجتماعی دعا کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ مسلمان ملک میں جگہ جگہ اکٹھا ہو کر استسقاء کی نماز پڑھیں۔ وہ اجتماعی طور پر بارش کے لئے دعا کریں۔ تقریباً یقین کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر بڑے پیمانہ پر ایسا کیا جائے تو ضرور بارش ہوگی اور سوکھی زمین سیراب ہو جائے گی۔
یہاں میں اضافہ کروں گا کہ اس نماز استسقاء میں بڑی بڑی سیاسی شخصیتوں اور اعلیٰ حکومتی ذمہ داروں کو بھی ضرور بلایا جائے ۔ مجھے یقین ہے کہ وہ لوگ بھی ضرور اس میں شرکت کریں گے۔ قاضی منذر کے مذکورہ قول کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر استسقاء کی اس دعا میں اعلیٰ حکمران افراد شرکت کریں تو دعا کی قبولیت مزید یقینی ہو جائے گی۔ لوگ نماز اور دعا سے فارغ ہو کر اپنے گھروں کو لوٹیں گے تو انشاء اللہ یہ یقینی ہے کہ باران رحمت کا نزول ہو چکا ہوگا۔ (۲۳ جولائی، ۲۰۰۲)
‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues