Al-Risala · September 2002 · page 6

My sentiments have overtaken my logic.

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۶

گفتگو کا موضوع بن گیا۔ ایک مسلمان مسافر جو امریکہ کے مخالف تھے اُن سے میں نے کہا کہ امریکی رپورٹ کے مطابق، ۱۱ ستمبر کا یہ واقعہ مسلمانوں نے انجام دیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس وقت مختلف ملکوں کے مسلمان ۶ ملین سے بھی زیادہ تعداد میں امریکہ میں رہتے ہیں۔ میں بارہ بار امریکہ گیا ہوں اور میں نے دیکھا ہے کہ وہاں یہ مسلمان کسی بھی مسلم ملک سے زیادہ اچھی حالت میں رہتے ہیں۔ گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ خود مذکورہ مسافر کے کچھ قریبی عزیز امریکہ میں رہ رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ ایسی حالت میں آپ لوگ کیوں امریکہ سے نفرت کرتے ہیں۔ اس طرح کی اور کئی باتیں میں نے کہیں جن کا جواب دلیل کی زبان میں ان کے پاس نہیں تھا۔ چنانچہ انہوں نے بے دلیل ہو کر کہا کہ اس معاملہ میں میرے جذبات میری منطق پر حاوی ہو گئے ہیں:

My sentiments have overtaken my logic.

میں نے نہایت دکھ کے ساتھ کہا کہ آج کل کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ جب امریکہ پر قومی تبصرہ کرنا ہو تو وہ اپنی منطق کو پیچھے کر لیتے ہیں اور جذبات کو آگے ۔ مگر یہی مسلمان اس وقت اپنی منطق کو آگے اور جذبات کو پیچھے کر لیتے ہیں جب کہ انہیں اپنی اولاد کو امریکہ میں بھیجنے کا کوئی چانس مل گیا ہو۔ میں ائر پورٹ کے ریسٹورنٹ میں بیٹھا ہوا تھا۔ دیوار پر لگے ہوئے ٹی وی پر پروگرام آ رہے تھے۔ یہ پروگرام زیادہ تر امریکہ میں ہونے والے ۱۱ ستمبر کے حادثہ سے متعلق تھے۔ ایک اسپیکر نے بولتے ہوئے کہا کہ اسامہ بن لادن اور ان کے جیسے دوسرے لوگ امریکہ کے مقابلہ میں مادی اعتبار سے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ مگر جو لوگ موت سے نہ ڈرتے ہوں وہ اتنا دلیر ہو جاتے ہیں کہ اُن کو کسی بھی چیز سے ڈرایا نہیں جا سکتا، یہی ان کی سب سے بڑی طاقت ہے:

Those who have no fear of death cannot be frightened with anything. دہلی سے لندن کے لئے برٹش ائرویز کی فلائٹ نمبر ۱۴۲ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ اس کی پرواز کا وقت رات کے دو بجے تھا۔ مگر ائر پورٹ پر غیر معمولی چیکنگ اور قدم قدم پر سیکورٹی کی وجہ سے جہاز ایک گھنٹہ لیٹ ہو کر روانہ ہوا۔ اس بار میری سیٹ جہاز کے اوپر کے حصہ ڈیک (deck) میں تھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues

Printed page