Al-Risala · September 2002 · page 7

My sentiments have overtaken my logic.

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۷

اس تجربہ سے اندازہ ہوا کہ ڈیک کا سفر بہت پرسکون ہوتا ہے۔ دہلی میں جب میں کاؤنٹر پر اپنا بورڈنگ کارڈ لے رہا تھا تو کاؤنٹر کے پیچھے کھڑے ہوئے آدمی نے کہا کہ ہم آپ کو ڈیک میں سیٹ دے رہے ہیں ، کیا یہ ٹھیک ہے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کا مشورہ اس سلسلہ میں کیا ہوگا ، اس نے کہا: I love travelling in the deck. راستہ میں ایک ہندو اسکالر سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ آپ لوگ ہندوؤں کو بت پرست سمجھتے ہیں مگر خود آپ لوگ بھی بت پرست ہیں۔ میں نے پوچھا کہ وہ کس طرح۔ انہوں نے کہا کہ ہندو کی بت پرستی یہ ہے کہ انہوں نے خدا کو جسمانی روپ دے کر مختلف بت بنا لئے اور ان کو پوجنے لگے۔ مسلمانوں نے یہ کیا کہ انہوں نے خود خدا ہی کو بت بنالیا۔ خدا تو سرتا پا نرا کار ہے، یعنی ہماری طرح اس کا کوئی مشخص وجود نہیں۔ مگر مسلمانوں نے پرسنل گاڈ کا تصور قائم کرکے یہ سمجھ لیا کہ خدا انسانی وجود کی طرح علیحدہ اور ایک مستقل وجود ہے اور پھر وہ اس کو پوجنے لگے۔ حالانکہ خدا ہر چیز میں سمائی ہوئی ایک اسپرٹ (pervading spirit)ہے۔

میں نے کہا کہ یہ وہی چیز ہے۔ جس کو عربی زبان میں بناء الفاسد علی الفاسد کہتے ہیں۔ آپ نے ایک غلط معیار (criterion) بنایا اور اس غلط معیار پر جانچ کر یہ سمجھ لیا کہ اسلام بھی بت پرستی سکھاتا ہے۔ میں نے کہا کہ مسلمان ایک خدا پر عقیدہ رکھتے ہیں۔ مگر وہ ایسا نہیں کرتے کہ وہ ایک خدا کا بت بنائیں اور پھر اس بت کو پوجیں۔ بت پرستی یہ ہے کہ خدا کے نام پر غیر خدا کی پرستش کی جائے۔ بت پرستی یہ ہے کہ خدا کے نام پر اس کی ایک ظاہری مورت بنائی جائے اور اس مورت کو خدا کا مظہر سمجھ کر اس کی عبادت کی جائے۔ مگر مسلمان ایسا نہیں کرتے کہ وہ الگ سے خدا کی کوئی فرضی مورت بنائیں۔ بلکہ وہ خود خدا ہی کی براہ راست طور پر تصوراتی عبادت کرتے ہیں۔ اسلام کے مطابق، انسان اور خدا کے درمیان تعلق کے لئے کوئی درمیانی واسطہ نہیں، نہ بت کا اور نہ کسی اور چیز کا۔ مسلمان خدا کے بت کی عبادت نہیں کرتے بلکہ خود خدا کی براہ راست عبادت کرتے ہیں۔ (اس معاملہ میں اسلام کا عقیدہ امام مالک کے الفاظ میں یہ ہے: الاستواء معلوم والكيف مجهول والسؤال عنه بدعة)

‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues

Printed page