A Manifesto of Peace, Road to Paradise
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۹
ساتھ اس کی تزئین و تجدید کر کے اس کو پورے معنوں میں جدید ہوٹل کا نمونہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ کانفرنس دراصل ایک گلوبل ڈائیلاگ کے طور پر کی گئی تھی۔ اس کا موضوع یہ تھا کہ پرامن دنیا کی تعمیر کس طرح کی جائے۔ اس میں مختلف ملکوں اور مختلف مذہبوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ تین دن تک اس موضوع پر ڈسکشن ہوتا رہا۔ میری تقریر ۱۸ ستمبر کو تھی۔ میں نے اپنی تقریر کے ساتھ موضوع سے متعلق دو پمفلٹ پیش کئے جو اس کانفرنس کے لئے تیار کیے گئے تھے۔ یہ دونوں پمفلٹ کانفرنس کے شرکاء کے درمیان تقسیم کئے گئے۔ ان کے ٹائٹل یہ تھے:
A Manifesto of Peace, Road to Paradise
اس کانفرنس کے اجلاس ۱۸ ستمبر میں میری تقریر تھی۔ جب میں نے لندن میں یہ تقریر کی اُس سے صرف ایک ہفتہ پہلے ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کو نیو یارک اور واشنگٹن کی اونچی عمارتوں پر حملہ کا واقعہ ہوا تھا جس میں تقريباً چار ہزار آدمی مر گئے ۔ میں نے اپنی تقریر میں اس واقعہ کا ذکر کیا تو غم سے میرا دل بھر آیا اور میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
اس کانفرنس کے صدر مسٹر آندرے بائیکوف تھے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں میرا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے درمیان آج ایک ایسا مسلمان ہے جو انسانیت کا درد رکھنے والا ہے اور جو ۱۱ ستمبر کے واقعہ پر اتنا زیادہ دُکھی ہے۔ اس کانفرنس میں میرے سوا ایک اور مسلمان تھے جو باہر کے ایک ملک سے آئے تھے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ صرف ایک مسلمان کی بات نہیں، بلکہ یہ سارے مسلمانوں کی بات ہے۔ دنیا بھر کے تمام مسلمان ۱۱ ستمبر کے واقعہ پر رورہے ہیں اور چلا رہے ہیں: The whole Muslim world is weeping and crying. اجلاس کے بعد کھانے کی میز پر مذکورہ مسلمان سے میری ملاقات ہوئی۔ میں نے اُن سے کہا کہ میں بھی اسی مسلم دنیا میں رہتا ہوں، میں نے تو کسی مسلمان کو امریکہ کے اس واقعہ پر روتے اور چلاتے ہوئے نہیں دیکھا۔ آخر یہ آپ کس مسلم دنیا کی بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے مسکرا کر جواب دیا کہ امریکہ بہت چودھرائی کر رہا تھا، اُس کو سبق دینا تو ضروری تھا۔
یہ واقعہ بڑا عبرت انگیز ہے۔ غیر حقیقت پسندانہ روش آدمی کو منافق بنا دیتی ہے، غیر حقیقت پسندانہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues