Al-Risala · September 2002 · page 8

You have more power than you think.

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۸

سفر کے دوران برٹش ایرویز کا فلائٹ میگزین ہائی لائف (High Life) کا شمارہ ستمبر ۲۰۰۱ء دیکھا۔ اُس میں ایک مضمون گفت و شنید (negotiation) کے موضوع پر تھا۔ اسی میں بتایا گیا تھا کہ کامیاب گفت و شنید کا طریقہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں مضمون نگار نے لکھا تھا کہ آپ جتنا سمجھتے ہیں اُس سے زیادہ طاقت آپ کے اندر ہے:

You have more power than you think.

مضمون میں بتایا گیا تھا کہ گفت و شنید خود ایک طاقت ہے۔ اس طاقت کو صحیح طور پر استعمال کرنے کے لیے کچھ شرطیں ضروری ہیں۔ ان میں سے ایک شرط مضمون میں یہ بتائی گئی تھی کہ آپ بات چیت کرتے ہوئے یہ جانیں کہ آپ کا مخالف فریق واقعتاً کیا چاہتا ہے:

What your opponent really wants.

اس حقیقت کو جانے بغیر کوئی گفت و شنید کامیاب گفت و شنید نہیں ہو سکتی۔ اس دنیا میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ آپ اپنے حریف کی خواہش کو اپنی موافقت میں استعمال کر سکیں۔ ہمارا جہاز لندن ائیرپورٹ پر اتراتواس وقت ستمبر ۲۰۰۱ کی ۷ تاریخ تھی اور مقامی اعتبار سے صبح کے ۸ بجے کا وقت۔ کچھ دیر ائیر پورٹ پر قیام کرنے کے بعد بذریعہ روڈ آگے کے لئے روانگی ہوئی۔ تقریباً دو گھنٹہ سفر کرنے کے بعد میں ایش ڈاؤن پارک ہوٹل پہنچا۔ کانفرنس کے دوران میرا قیام اسی ہوٹل کے کمرہ نمبر ۶۶ میں تھا۔ کانفرنس کی کارروائیاں بھی اسی ہوٹل کے ہال میں ہوئیں۔ ۲۰ ستمبر ۲۰۰۱ تک میرا قیام اس ہوٹل میں رہا اس کے بعد یہاں سے بذریعہ روڈ برمنگھم اور مانچسٹرگیا۔ ایش ڈاؤن پارک ہوٹل ۱۸۶ ایکڑ کے رقبہ میں واقع ہے۔ اس کے چاروں طرف دور دور تک سرسبز علاقے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی تاریخ یہ ہے کہ ۱۸۶۷ء میں ایک بڑے جاگیردار نے اس کو مینر ہاؤس (Manor House) کے طور پر بنایا تھا۔ ہندوستانی اصطلاح میں اس کو ایک بڑا فارم ہاؤس کہہ سکتے ہیں۔ مختلف بلڈنگوں کے علاوہ اس میں ایک بڑا چرچ بھی بنایا گیا تھا۔ یہ مقام مختلف مقاصد کے لئے استعمال ہوتا رہا یہاں تک کہ ۱۹۹۳ میں اس کو ایک لگژری ہوٹل میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس کا عمارتی ڈھانچہ مکمل طور پر اپنی قدیم حالت میں باقی رکھا گیا ہے۔ اس کے

‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues

Printed page