Al-Risala · September 2002 · page 12

Speech at London Conference

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۱۲

سوچ اس قابل نہیں ہوتی کہ آدمی اُس کو دوسروں کے سامنے مدلل کر سکے۔ ایسی بات آدمی کو خود تو اچھی لگتی ہے مگر وہ اسٹیج پر کہنے کے قابل نہیں ہوتی۔ اُس کو دوسروں کے سامنے بیان کرنا اپنے آپ کو حقیر بنانے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے دل میں کچھ ہوتا ہے مگر دوسروں سے وہ کچھ اور بیان کرتا ہے۔ وہ یقولون بأفواههم ما ليس في قلوبهم (آل عمران (۱۶۷) کا مصداق بن جاتا ہے۔ نجی گفتگو میں وہ ایک زبان بولتا ہے اور عوام کے سامنے گفتگو میں دوسری زبان۔ لندن کی اس کانفرنس میں ڈاکٹر ایل ایم سنگھوی بھی شریک تھے۔ وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ہیں۔ وہ اس سے پہلے لندن میں ہندوستان کے ہائی کمشنر رہ چکے ہیں۔ کانفرنس کے موقع پر میرا پمفلٹ مینی فیسٹو آف پیس (Manifesto of Peace) شرکاء کے درمیان تقسیم کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر سنگھوی نے اس کو پڑھا اور اس کے بارے میں اپنے اعلیٰ تاثرات کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر سنگھوی نے میری اور بھی بعض کتابیں پڑھی ہیں۔ مثلاً ٹرو جہاد (The True Jihad)۔ واپسی کے بعد انہوں نے اپنے خط (۳ مئی ۲۰۰۲ء) میں اپنا تاثر ان الفاظ میں لکھ کر بھیجا:

May 3, 2002 My Dear Maulana Saheb, I have received a copy of the True Jihad. It is a mirror in which I see your visage and read your message of peace, tolerance and non-violence. I read in your message the words of wisdom which are our common heritage. I hear the resonant voice of the Mahatma in the words of the Maulana!

With my deep regards, Yours ever, L.M. Singhvi.

‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues

Printed page