Speech at London Conference
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۱۳
ہوٹل میں لندن کے انگریزی روز نامہ دی ٹائمز (The Times) کا شمارہ ۱۹ ستمبر ۲۰۰۱ دیکھا۔ اس کے صفحہ اول پر زیادہ تر موجودہ حالات کے تعلق سے مسلم خبریں تھیں۔ ایک پوسٹر کی کافی بڑی تصویر تھی جس کے اوپر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا تھا۔ اس پوسٹر کے نیچے درج تھا کہ ”ایک مسلم نوجوان پلے کارڈ لئے ہوئے المہا جرون کے مظاہرہ کے دوران لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے سامنے“:
A boy with a playcard at an al-Muhajirun demonstration outside the Pakistan High Commission in London yesterday. جو مسلم نوجوان پلے کارڈ لئے ہوئے تھا اس کی ٹوپی پر سامنے لکھا ہوا تھا: لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ پلے کارڈ میں جلی حرفوں میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے۔ امریکہ اسلام کے ساتھ حالت جنگ میں: USA AT WAR WITH ISLAM دنیا کا نظام مسابقت کے اصول پر قائم ہے۔ اس لئے یہاں ہمیشہ ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان رقابت اور عداوت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ یہ مسئلہ مسلمانوں کے لئے بھی ہے اور غیر مسلموں کے لئے بھی۔ مگر دونوں کے درمیان ایک فرق ہے۔ غیر مسلم لوگ اس طرح کے مسائل کو صرف ملکی اور قومی عنوان دیتے ہیں۔ مگر مسلمان اس کو فورا اسلامی عنوان دے دیتے ہیں۔ مثلاً امریکہ نے جاپان پر ایٹم بم گرایا تو وہاں کے لوگوں نے یہ نہیں کہا کہ یہ جاپانی مذہب پر حملہ ہے۔ اسی طرح امریکہ نے ویت نام میں ۱۱ سال تک جنگ جاری رکھی۔ مگر ویت نام کے لوگوں نے یہ نہیں کہا کہ امریکہ ہمارے مذہب کا دشمن ہے اور ہمارے مذہب کو مٹانا چاہتا ہے۔ لیکن مسلمانوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ وہ ہمیشہ اس طرح کے معاملات کو مذہب کا عنوان دے دیتے ہیں۔ پہلے ایک مدت تک وہ انگریز کو اسلام دشمن بتاتے تھے اور اب وہ امریکہ کو اسلام دشمن بتا کر اس سے نفرت اور ٹکراؤ کو دینی جہاد سمجھے ہوئے ہیں۔ اس منفی پالیسی کا سب سے بڑا نقصان خود مسلمانوں کے حصہ میں آیا ہے۔ اسلام کی سب سے بڑی طاقت دعوتی عمل میں ہے۔ مگر اس غیر واقعی پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں دعوتی عمل کا جذبہ ختم ہو گیا۔ دعوتی عمل ہمیشہ دوسری قوموں سے خیر خواہی کے جذبہ پر قائم ہوتا ہے۔ مگر دوسری قوموں
‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues