Al-Risala · September 2002 · page 34

سوال وجواب

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۳۴

میں اپنے قول و عمل کے ریکارڈ کے مطابق، اپنی ایک بُری یا اچھی شخصیت بناتا ہے۔ اسی کے مطابق، اگلی دنیا میں اُس کا اچھا یا بُرا انجام ہونے والا ہے۔ اچھے انجام والے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور بُرے انجام والے لوگ جہنم میں داخل کیے جائیں گے۔

۴۔ اسلام کا تصور حیات فلسفہ اور موجودہ مذاہب دونوں سے الگ ہے۔ اسلام کا تصور تمام تر امتحان(test)کے تصور پر مبنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا ایک قسم کی تربیت گاہ ہے۔ یہاں آدمی کو آزادانہ اختیار دے کر یہ موقع دیا گیا ہے کہ وہ یہاں کے مختلف حالات سے گزرتے ہوئے اپنے آپ کو تیار کرے۔ وہ منفی واقعات کا مثبت جواب دے۔ وہ ناموافق تجربات کے باوجود بلند کرداری کا ثبوت دے۔ وہ وقتی جذبات سے غیر متاثر رہ کر مستقبل کو اپنی توجہ کا مرکز بنائے ۔ وہ وقتی داعیات سے غیر متاثر رہ کر ابدی حقیقتوں میں جینے کا ثبوت دے۔ وہ آزادی کے باوجود اپنی اَنَا کو خدا کے آگے جھکا دے۔ وہ خود پسندی کی زندگی گزارنے کے بجائے خدا رخی زندگی (God oriented life) گزارے۔ وہ دنیا کی تعمیر کے بجائے آخرت کی تعمیر کو اپنا مقصد حیات بنائے۔ ۵۔ آپ نے اپنے مطالعہ کے لیے کچھ کتابیں دریافت کی ہیں۔ اسلام کو سمجھنے کے لیے آپ کو قرآن اور حدیث رسول کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ قرآن اور حدیث کے علاوہ موجودہ زمانہ میں بہت سی کتابیں اسلام کے تعارف اور تشریح میں لکھی گئی ہیں۔ اُن میں سے ایک راقم الحروف کی کتاب ہے جس کا نام یہ ہے: Islam Re-discovered سوال گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی اس بات کی متقاضی ہے کہ ملک کے مسلمان ذات و برادری اور مسلکی اختلافات سے یکسر کنارہ کش ہو کر اور متحد ہو کر کوئی دائمی لائحہ عمل تیار کریں۔ خصوصاً مسلم علماء، لیڈر، دانشور اور حکومت کے اندر خدمات انجام دینے والے سر جوڑ کر بیٹھیں ۔ جذبات سے مغلوب ہونے کی ضرورت نہیں۔ تمام مسلمانوں کو انصاف کی آواز بلند کرنی چاہئے۔ جن لوگوں کو اللہ نے لائق و فائق بنایا ہے اور وہ اس سے اعراض کرتے ہیں تو قیامت کے دن سخت جواب دہ ہوں گے

‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues

Printed page