Al-Risala · September 2002 · page 33

سوال وجواب

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۳۳

(unlimited capacity) رکھتا ہے۔ دنیا کا سب سے زیادہ مصروف یا سب سے زیادہ کامیاب انسان بھی اپنے ذہن (mind) کا بمشکل دو فیصد حصہ کو استعمال کر سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا اپنی محدودیت کی بنا پر اتنی گنجائش ہی نہیں رکھتی کہ جہاں کوئی آدمی اپنی پوری استعداد کے ساتھ جی سکے۔ اس مطالعہ کے مطابق، انسان کی استعداد اور قابل حصول دنیا میں ایک تضاد پایا جاتا ہے۔ یہ تضاد اس بات کا ایک قرینہ ہے کہ موجودہ دنیا کے علاوہ ایک اور دنیا ہو جہاں انسان اپنے لیے پوری تکمیل (fulfilment) پاسکے، جہاں آدمی کے لیے اپنی پوری استعداد کے ساتھ جینا ممکن ہو۔ یہ گویا اس بات کی ایک نفسیاتی شہادت ہے کہ آج کی محدود دنیا کے علاوہ ایک لامحدود اور کامل دنیا موجود ہے، اسی دوسری دنیا کا نام جنت ہے۔

اس تخلیقی نقشہ کے مطابق، موجودہ دنیا کی حیثیت گویا انتخاب کا ایک ابتدائی مقام ہے۔ یہاں وہ افراد چنے جارہے ہیں جو اپنے قول وعمل سے اس بات کا ثبوت دیں کہ وہ جنت کی نفیس دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہیں۔

۲۔ موت کے بعد کیا ہوتا ہے، اس سوال کا جواب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی انسان پر جو موت واقع ہوتی ہے وہ اُس کے موجودہ جسم پر واقع ہوتی ہے، اُس کی روح پر نہیں۔ انسان ایک ایسی ہستی ہے جو تغیر پذیر جسم کے اندر ایک غیر تغیر پذیر چیز کی حیثیت رکھتی ہے: personality is changelessness in change. اسلام کے مطابق، جب کوئی انسان مرتا ہے تو وہ اپنے موجودہ مادی جسم کو چھوڑ کر اگلی دنیا میں چلا جاتا ہے جہاں وہ نئے اور زیادہ بہتر جسم کے ساتھ ہمیشہ کے لیے رہ سکے۔ ۳۔ بھنور (whirlpool) کا نظریہ کچھ فلسفیوں کا ایک خیالی نظریہ ہے۔ اسلام نے زندگی کا جو تصور دیا ہے اُس میں ایسا کوئی مرحلہ نہیں۔ اسلام کے مطابق، ایسا نہیں ہے کہ مرنے کے بعد ساری انسانی روحیں بھنور کی مانند کسی ایک جگہ عالم پریشانی میں اکٹھا ہو رہی ہوں۔ اسلام کے مطابق، ہر انسان کا تشخص الگ ہے۔ ہر انسان اپنا ایک مستقل وجود رکھتا ہے۔ ہر انسان موجودہ دنیا

‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues

Printed page