Al-Risala · September 2002 · page 36

سوال وجواب

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۲، صفحہ ۳۶

بے موقع تشریحات سے آپ کے مخالفین کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ آپ کو غیر ضروری طور پر بدنام کریں ۔ ورنہ آپ کی مثبت فکر کے نتائج خاطر خواہ برآمد ہو سکتے تھے۔ کسی بھی تبصرے کے وقت حالات کا تناظر رہنا چاہئے۔ یک عالم دین اور ایک مصلح کی حیثیت سے آپ کے لیے مقام غور و فکر تھا کہ ایسے نازک حالات میں کس قسم کی بات کی جائے کہ مسلمانوں کو اپنے زخم خوردہ دلوں پر کوئی پھاٹا محسوس ہوتا۔ مخصوص حالات کے کچھ مخصوص تقاضے بھی ہوتے ہیں جن کو ملحوظ رکھنا علماء کا ہی تو کام ہوتا ہے۔ (خالد خانقاہی۔ حیدر آباد)

جواب

اس معاملہ میں اصل سوال یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کی دل پسند باتیں کہہ کر ان کے درمیان مقبولیت حاصل کی جائے ۔ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کو یہ بتایا جائے کہ قرآن و سنت کی رہنمائی کے مطابق ، اُن کے مسائل کا حل کیا ہے ۔ گہرے مطالعہ کے بعد ہم نے یہ جانا ہے کہ قرآن و سنت کی رہنمائی تمام تر احتساب خویش پر مبنی ہے، نہ کہ احتساب غیر پر۔ دوسروں کے اوپر ذمہ داری ڈالنا غیر اسلامی طریقہ ہے اور خود ذمہ داری قبول کرنا اسلامی طریقہ۔

مکی دور میں تیرہ سال تک رسول اور اصحاب رسول کو ہر طرح ستایا گیا۔ اس معاملہ میں خدا کی طرف سے جو ہدایت دی گئی وہ صرف یہ تھی کہ تم اُن کی ایذاؤں پر صبر اور اعراض کرو (ابراهیم (۱۲) غزوہ اُحد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی تو قرآن میں خود مسلمانوں سے کہا گیا کہ تم اپنی کوتاہیوں کی اصلاح کرو (آل عمران (۱۵۲) ۔ غزوہ حنین میں مسلمانوں کو مشرکین کی جارحیت کا شکار ہونا پڑا۔ اُس وقت بھی یک طرفہ طور پر مسلمانوں کی کمزوری کی نشاندہی کی گئی۔ (التوبہ ۲۵) حدیبیہ کے موقع پر مشرکین نے شدید حمیت جاہلیہ کا مظاہرہ کیا مگر مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ رد عمل سے بچتے ہوئے ایک طرفہ طور پر متقیانہ روش اختیار کریں اور مشرکین کی شرائط پر صلح کر کے مدینہ واپس چلے جائیں (الفتح ۲۶)۔ قرآن و سنت کا مطالعہ یقینی طور پر بتاتا ہے کہ مسائل کے مقابلہ میں اسلام کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ فریق ثانی کی سازشوں کا انکشاف کیا جائے ۔ شکایت اور احتجاج کا طوفان برپا کر کے یہ ثابت کیا

‹ Previous page Next page › Contents of September 2002 All issues

Printed page